جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 526 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 526

526 لیتے ہیں۔66 آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ میں شرکت اور چندہ دہندگان میں آپ کا ذکر موجود ہے۔تحفہ قیصریہ اور کتاب البریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی اور پُر امن جماعت میں آپ کا ذکر موجود ہے۔نور القرآن نمبر ۲ میں حضرت اقدس کی خدمت میں رہنے والوں میں آپ کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔علاوہ مختلف اوقات میں حضرت اقدس کی ملفوظات میں بھی ذکر ملتا ہے۔خدمات دینیہ : آپ کی تبدیلی پیالہ سے فیروز پور ہوئی جہاں سے پادری عبد اللہ آتھم کے رشتہ داروں نے آپ کا تبادلہ مردان کروا دیا۔مردان سے آپ پینشن پا کر مستقل قادیان آسے۔آپ حضرت اقدس مسیح موعود کے پرائیویٹ سیکرٹری تھے۔خدمتگار تھے۔انجینئر تھے۔مالی تھے۔زمین کے مختار تھے۔حضرت اقدس کے اکثر معجزات بچشم خود دیکھے۔آپ کی خدمات میں مسجد نور، نور ہسپتال، دار الضعفاء وغیرہ کا قیام شامل ہے۔حضرت میر صاحب شاعرانہ فطرت لے کر پیدا ہوئے تھے۔ابتدائی زمانہ میں انجمن حمایت اسلام لاہور کے جلسے میں آپ نے ایک نظم پڑھی جس کا ایک شعر تھا۔پھولوں کی گر طلب ہے تو پانی چمن کو دے جنت کی گر طلب ہے تو زر انجمن کو دے انجمن کو اس نظم کے وقت بہت سا روپیہ وصول ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کے کلام کو پسند فرماتے تھے۔آپ کی ایک نظم کو کتاب ” آریہ دھرم میں بھی درج فرمایا۔اسی طرح ” جلسہ اعظم مذاہب میں بھی آپ کو نظم پڑھنے کا موقع ملا۔سیرت المہدی میں آپ کی متعدد روایات درج ہیں۔وفات:۱۹ ستمبر ۱۹۲۴ء کو جمعہ کے دن آپ کا انتقال ہوا۔بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین ہوئی۔آپ کے جدی خاندان میں آپ کی ایک بھانجی حضرت سیدہ شوکت سلطان صاحبہ کواحدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔اولاد آپ کی صاحبزادی حضرت ام المومنین سیدہ نصرت جہاں ) رضی اللہ عنہا، حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل اور حضرت میر محمد اسحق تھے۔اس طرح اس خاندان سادات کا حضرت اقدس کے خاندان کے ساتھ گہرا تعلق قائم ہوا بلکہ یہ ایک ہی خاندان ہو گیا۔(بحوالہ ۳۱۳ اصحابه صدق و صفا ۶۳۶۲)