جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 525
525 عندلیب پیدا ہوئے۔جنہیں ایک بزرگ نے کشف میں ایک عظیم الشان بشارت دی کہ : ایک خاص نعمت تھی جو خانوادہ نبوت نے تیرے واسطے محفوظ رکھی تھی۔اس کی ابتداء تجھ پر ہوئی اور اس کا انجام مہدی موعود پر ہو گا۔“ حضرت خواجہ صاحب نے اس عظیم الشان بشارت پر صوفیاء کے ایک نئے سلسلہ طریق محمدیہ کی بنیاد رکھی اور پہلی بیعت اپنے تیرہ سالہ بیٹے خواجہ میر درد سے لی۔حضرت میر ناصر نواب صاحب حضرت خواجہ میر درد کے نواسے تھے۔آپ کے والد گرامی کا نام حضرت میر ناصر امیر تھا۔اس بشارت کا ظہور حضرت میر صاحب کی دختر سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے شادی کے رنگ میں ہوا۔حضرت اقدس سے تعلق: حضرت سید نامیر ناصر نواب امرتسر میں محکمہ نہر میں سب اور سیٹر ملازم ہوئے اور اس سلسلہ میں قادیان آنے کا موقع ملا اور حضرت اقدس مسیح موعود کے خاندان سے ابتدائی تعارف ہوا۔مزید تعلق حضرت اقدس سے بعد میں آپ کی صاحبزادی حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم (حضرت ام المومنین ) کے نکاح سے ہوا۔حضرت اقدس سے نکاح ۱۸۸۴ء میں دہلی میں ہوا جو مشہور اہلحدیث عالم شیخ الملک مولانا نذیر حسین دہلوی نے پڑھا۔اس وقت حضرت اقدس موعود علیہ السلام کی بالکل شہرت نہ تھی۔حضرت اقدس نے جب براہین احمدیہ شائع فرمائی تو آپ نے بھی ایک نسخہ خریدا۔آپ محکمہ انہار میں ملازمت کے سلسلہ میں مختلف علاقوں میں متعین رہے۔بیعت : ۱۸۸۹ء میں حضرت اقدس نے ماموریت کا دعویٰ فرمایا اور لدھیانہ میں سلسلہ بیعت شروع ہوا تو کچھ توقف سے آپ نے ۱۸۹۱ء میں حضرت اقدس کی بیعت کر لی۔رجسٹر بیعت اولی میں آپ کی بیعت ۱۳۳ نمبر پر ہے۔اس بیعت کے نتیجے میں آپ کو اپنے زمانہ اہلحدیث کے دوستوں مولوی محمدحسین بٹالوی اور شیخ نذیرحسین صاحب دہلوی سے تعلقات چھوڑنے پڑے۔جن کے ساتھ مل کر آپ حضرت مسیح موعود کی ابتداء مخالفت بھی کرتے رہے تھے۔بیعت سے قبل ۱۲/ اپریل ۱۸۹۱ء کو آپ نے ایک اشتہار شائع کیا جس میں لکھا کہ میں نے جو کچھ مرزا صاحب کو فقط اپنی غلط فہمیوں کے سبب سے کہا نہایت برا کیا اب میں تو بہ کرتا ہوں۔“ حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے اپنی کتاب ازالہ اوہام حصہ دوم میں صفحہ ۵۳۵ پر 66 فرمایا:۔میر صاحب موصوف علاوہ رشتہ روحانی کے رشتہ جسمانی بھی اس عاجز سے رکھتے ہیں کہ اس عاجز کے خسر ہیں۔نہایت یک رنگ اور صاف باطن اور خدا تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہیں اور اللہ اور رسول کی اتباع کو سب چیز سے مقدم سمجھتے ہیں اور کسی سچائی کے کھلنے سے پھر اس کو شجاعت قلبی کے ساتھ بلا توقف قبول کر