جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 524
524 شمس العلماء سید میر مہدی حسن مرحوم حضرت میر صاحب کی پرہیز گاری اور تقویٰ کے معترف تھے۔آپ کی کتب (1) لیکچر سیالکوٹ (۲) القول الفصل و مـاهـو بـالـهـزل (۳) جنگ مقدس کا فوٹو (۴) الجواب (۵) مسدس مسمی به احقاق حق (۶) واقعات ناگزیر (۷) سخن معقول (۸) دعوت دہلی (۹) کلام حامد (۱۰) رباعیات حامد (۱۱) جام عرفان (۱۲) گلزار احمد - کتاب القول الفصل کو حضرت چوہدری محمد بخش صاحب حضرت خلیفہ نورالدین اور حضرت حکیم فضل الدین نے مفت تقسیم کیا۔حضرت اقدس مسیح موعود کی نظر میں آپ کا مقام : حضرت اقدس مسیح موعود آپ کے متعلق ازالہ اوہام میں تحریر فرماتے ہیں: سید حامد شاہ صاحب سیالکوٹی۔یہ سید صاحب محب صادق اور اس عاجز کے ایک نہایت مخلص دوست کے بیٹے ہیں۔جس قدر خدا تعالیٰ نے شعر اور سخن میں ان کو قوت بیان دی ہے وہ رسالہ قول الفصل کے دیکھنے سے ظاہر ہوگی۔میر حامد شاہ کے بشرہ سے علامات صدق و اخلاص و محبت ظاہر ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ وہ اسلام کی تائید میں اپنی نظم و نثر سے عمدہ عمدہ خدمتیں بجالائیں گے۔ان کا جوش سے بھرا ہوا اخلاص اور ان کی محبت صافی جس حد تک مجھے معلوم ہوتی ہے میں اس کا اندازہ نہیں کر سکتا۔مجھے نہایت خوشی ہے کہ وہ میرے پرانے دوست میر حسام الدین صاحب رئیس سیالکوٹ کے خلف رشید ہیں۔“ حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے آپ کا ذکر ازالہ اوہام ، آسمانی فیصلہ، آئینہ کمالات اسلام، تحفہ قیصریہ، سراج منیر، کتاب البریہ اور حقیقۃ الوحی اور ملفوظات جلد پنجم میں کئی جگہ پر اپنے مخلصین ، جلسہ سالانہ کے شرکاء، چندہ دہندگان، جلسہ ڈائمنڈ جوبلی اور پُر امن جماعت کے ضمن میں فرمایا ہے۔وفات: ۱۵ نومبر ۱۹۱۸ء کو آپ حرکت قلب بند ہونے سے انتقال فرما گئے۔وفات کے وقت آپ کی عمر قریباً ۶۰ سال تھی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی ہدایت پر جنازہ سیالکوٹ سے قادیان لایا گیا اور بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین عمل میں آئی۔(بحوالہ ۳۱۳ اصحاب صدق وصفا ۴۳ ۴۴) ۳۔حضرت سید میر ناصر نواب صاحب دہلوی ولادت ۱۸۴۵ء۔بیعت : ۱۸ جون ۱۸۹۱ء۔وفات: ۱۹ ستمبر ۱۹۲۴ء تعارف: حضرت سیدنا میر ناصر نواب رضی اللہ عنہ کا خاندان صوفیاء کا خاندان تھا۔جو مغل شہنشاہ شاہجہان کے زمانہ میں بخارا سے ہجرت کر کے ہندوستان وارد ہوا۔پہلے بزرگ خواجہ محمد نصیر نقشبندی تھے جو حضرت بہاؤالدین نقشبندی کی اولاد میں سے تھے۔اس خاندان میں مشہور صوفی حضرت خواجہ میر محمد ناصر