جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 12 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 12

12 وقت تھا وقت مسیحانہ کسی اور کا وقت عصر حاضر میں انسانیت کے گم کردہ راہ قافلے نے جس طرح اللہ تعالیٰ کے برگزیدوں اور فرستادوں کی تعلیم کو فراموش کر دیا اس کی نظیر بہت کم ملتی ہے عوام سے لے کر علماء تک کے سبھی طبقے خواہ ان کا تعلق کسی بھی مکتب فکر سے ہو بلا تفریق امت مرحومہ کے مرثیہ خواں نظر آتے تھے اور بزرگان حال وقال کہہ رہے تھے کہ جو تاریکی چھٹی صدی عیسوی میں جہالت نے پھیلائی تھی جبکہ اسلام کا ظہور ہوا تھا ویسی ہی روحانی تاریکی اور ظلمت آج پھر پوری شدت سے عود کر آئی ہے۔اخلاق و تمدن، معیشت واقتصاد اور عقائد روحانیت کا کوئی ایسا خوفناک مرض نہیں جو انسانیت کو لاحق نہ ہو۔خاص طور پر احادیث مذکورہ میں جو نقشہ آنحضرت ﷺ نے امت محمدیہ کا کھینچا ہے وہ من و عن پورا ہو گیا اس صورتحال کا نقشہ ایک معروف عالم دین جناب نواب صدیق حسن خان صاحب ان الفاظ میں کھینچتے ہیں :۔اب اسلام کا صرف نام قرآن کا صرف نقش باقی رہ گیا ہے۔علماء اس امت کے بدتر ان کے ہیں جو نیچے آسمان کے اور اوپر زمین کے ہیں۔انہی سے فلتے نکلتے ہیں اور انہی کے اندر پھر کر جاتے (اقتراب الساعة ص ۱۲) ہیں۔اس حقیقت کا اعتراف رسالہ اہلحدیث میں بھی کیا گیا ہے:۔افسوس ہے ان مولویوں پر جن کو ہم ہادی، رہبر، ورثة الأنبياء سمجھتے ہیں۔ان میں یہ نفسانیت اور شیطنت بھری پڑی ہے تو پھر شیطان کو کس لئے برا بھلا کہنا چاہئے۔“ ( رسالہ اہلحدیث ۱۷ نومبر ۱۹۱۱ء) پھر اسی رسالہ اہلحدیث میں امت محمدیہ میں پیدا ہونے والے انتشار کا ذمہ دار بھی علماء کو ٹھہرایا گیا ہے:۔هَلْ أَفْسَدَ النَّاسَ إِلَّا الْمُلُوكُ * وَعُلَمَاءُ سُوءٌ وَرُهْبَا نُهَا یعنی۔کیا بادشاہوں، علماء سوء اور رہبان کے سوا کسی اور چیز نے لوگوں کو خراب کیا ہے۔“ (رسالہ اہلحدیث کے جنوری ۱۹۱۲ء) حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:۔اگر نمونہ یہود خواہی کہ بینی علماء سوء کہ طالب دینا باشد (الفوز الکبیر ص۱۰) یعنی اگر یہود کا نمونہ دیکھنا ہو تو علماء سوء کو دیکھ لوجو دنیا کے پیچھے پڑ چکے ہیں۔