جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 13
13 شاعر مشرق علامہ سر محمد اقبال امت محمدیہ کی حالتِ زار کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچتے ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود ہے کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود ہم وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلماں بھی ہو مسجدوں کی حالت زار بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے صاحب اوصاف حجازی نہ رہے پھر فرمایا:۔یعنی وہ مسجد تو بنا لی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا سیدابوالاعلی مودودی صاحب امیر جماعت اسلامی پاکستان نے مسلمانوں کے بارے میں لکھا:۔ی انبوہ عظیم جس کو مسلمان قوم کہا جاتا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے ۹۹۹ فی ہزار افراد نہ اسلام کا علم رکھتے ہیں نہ حق و باطل کی تمیز سے آشنا ہیں۔نہ ان کا اخلاقی نقطہ نظر اور ذہنی رویہ اسلام کے مطابق تبدیل ہوا ہے۔باپ سے بیٹے اور بیٹے سے پوتے کو بس مسلمان کا نام ملتا چلا آ رہا ہے۔(سیاسی کشمکش حصہ سوم ص ۱۳۰) مولوی سیدا بوحسن ندوی صاحب نے لکھا:۔اسلام عیسائیت کی طرح چند اعتقادات اور چند رسوم کا مجموعہ بن کر رہ گیا ہے۔“ (سیرت سید احمد شہید ص ۲۳ مطبوعه ۱۹۴۱ء) مشہور خطیب سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اپنی ایک تقریر میں کہا:۔”ہمارا اسلام ، ہم نے اسلام کے نام پر جو کچھ اختیار کر رکھا ہے کہ وہ تو صریحی کفر ہے۔ہمارے دل دین کی سمجھ سے دور، ہماری آنکھیں بصیرت سے نا آشناء کان سچی بات سننے سے گریزاں سے بے دلی ہائے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق بے کسی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں