جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 11 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 11

11 درسن عاشی ہجری ہجری قران خواہد بود خواهد بود از پئے مہدی و دجال نشاں یعنی ۱۳۱۱ھ میں دو نشان ( سورج و چاند گرہن ) ظاہر ہوں گے اور یہ دو نشان بچے مہدی اور جھوٹے دجال کے درمیان امتیاز کریں گے۔نواب نورالحسن خان صاحب بھو پالوی لکھتے ہیں :۔66 اسی حساب سے ظہور مہدی علیہ السلام کا تیرھویں صدی پر ہونا چاہئے تھا۔مگر یہ صدی پوری ہو گئی تو مہدی نہ آئے اب چودھویں صدی ہمارے سر پر آتی ہے اس صدی سے اس کتاب کے لکھنے تک چھ ماہ گزر چکے ہیں شاید اللہ تعالیٰ اپنا فضل و عدل ورحم وکرم فرمائے۔چار چھ سال کے اندر مہدی ظاہر ہو جا نہیں۔“ ( اقتراب الساعة ص ۲۲۱) مشہور صوفی وادیب جناب خواجہ حسن نظامی سجاده نشین درگاه شریف حضرت نظام الدین اولیاء دہلی نے بلاد عربیہ کی سیاحت کے بعد لکھا:۔ممالک اسلامیہ کے سفر میں جتنے مشائخ اور علماء سے ملاقات ہوئی میں نے ان کو امام مہدی کا بڑی بے تابی سے منتظر پایا۔شیخ سنوسی کے ایک خلیفہ سے ملاقات ہوئی انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اسی ۱۲۳۰ھ میں امام مدوح ظاہر ہو جائیں گے۔“ اہلحدیث ۲۶ جنوری ۱۹۱۲ء) حضرت شاہ محمد حسین صابری کی طرف سے ۱۸۵۶ء میں پہلی بار حقیقت گلزار صابری اشاعت پذیر ہوئی اس میں حضرت امام مہدی کے ظہور کی تعین کی گئی ہے۔چنانچہ لکھا ہے:۔طرح طرح کے فتنے ہفت اقلیم میں ظہور میں آویں گے اور ۱۳۰۰ھ کے بعد ۱۴۰۰ھ سے یہ امر بطون سے مرتبہ ظہور میں آویں گے۔“ پھر لکھا ہے:۔(حقیقت گلزار صابری ص ۱۵۴) در جمیع مکتوبات خطاب کو حضرت امام مہدی کے تفویض کر دے گا اور زمانہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ۱۴۰۰ھ کے قریب ہو گا۔“ (حقیقت گلزار صابری ص ۳۶۹) بزرگان امت کے ان تمام اقوال سے پتہ چلتا ہے کہ امام مہدی کا ظہور چودھویں صدی میں ہی مقدر تھا۔یہی وجہ ہے کہ وہ تمام علامات اور نشانیاں جو امام مہدی کے دعوی سے قبل ظاہر ہونی تھیں پوری ہو گئیں اور ہر طرف بڑی شدت سے ایک مصلح اور مہدی کا انتظار ہورہا تھا۔