جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 10 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 10

10 تاں مردا نے پچھیا۔گروجی ! کبیر بھگت جیہا کوئی ہور بھی ہوئیا ہے سری گرونانک آکھیا۔مردانیاں ! اک جھیٹا ہوسی پر اساں تو پچھاں سو برس توں بعد ہوسی۔پھر مردانے پچھیا۔جی کیہڑے تھا ئیں۔اتے ملک وچ ہوسی۔تاں گرو جی نے کہیا۔وٹالہ دے پر گنے وِچ ہوسی“۔جنم ساکھی وڈی بھائی بالا والی ص ۲۵۱ مطبوعہ مفید عام پریس لاہور ) مہاتما بدھ کی وفات سے کچھ عرصہ قبل ان کے شاگرد خاص آنند نے مبارک بدھ سے کہا:۔”جب تو چلا جائے گا، ہم کو کون تعلیم دے گا مبارک بدھ نے جواب دیا۔صرف میں ہی اکیلا بدھ نہیں ہوں، جو دنیا میں آیا ہوں۔اور میں آخری بھی نہیں ہوں گا۔میں تم کو سچائی سکھانے کو آیا تھا۔اور سچائی کی اشاعت ہوگی تب تھوڑے دنوں کے واسطے بھرم کے بادل روشنی کو دھند لی کر دیں گے اور مناسب وقت میں دوسرا بدھ پیدا ہو گا اور وہ تم پر اس سچائی کا اظہار کرے گا جس کی میں نے تعلیم دی ہے۔آنند نے پوچھا ہم اس کو کس طرح پہچانیں گے۔مبارک بدھ نے کہا۔میرے بعد جو بدھ آوے گامیتر یہ کے نام سے مشہور ہوگا۔یعنی وہ جس کا نام خود ”مہربانی ہوگا۔“ ( کلیان دهرم ص ۳۷۳ باب ۹۶ - آیت ۱۲ تا۱۵۔مترجمه شوبرت لعل در من ایم۔اے) موعودا قوام عالم کا ظہور اور چودہویں صدی امت محمدیہ کے کئی بزرگوں نے امام مہدی کے ظہور کے زمانہ کی تعیین بھی کر دی۔جو چودہویں صدی کا ابتدائی حصہ بنتا ہے۔حضرت شاہ عبدالعزیز نے تحفہ اثنا عشریہ میں اور حضرت شاہ اسمعیل شہید نے اربعین فی احوال المہدیبین ص ۱۳ میں لکھا ہے کہ:۔بارہ سو ہجری کے بعد مہدی کے ظہور کا انتظار کرنا چاہئے۔“ اہل تشیع کی کتاب غایۃ المقصو دجلد ۲ ص ۸۱ میں بھی ہے کہ :۔66 چودھویں صدی میں امام مہدی علیہ السلام کے مبعوث ہونے کا انتظار ہوگا۔“ نواب نورالحسن خان بھو پالوی لکھتے ہیں:۔دو جان لینا چاہئے کہ چودھویں صدی کے سر پر ان کا ظہور ہو گا۔“ علاقہ ملتان میں صوفی بزرگ شیخ محمد عبدالعزیز پہاروی کا یہ شعر زبان زد خلائق ہے :۔( حج الكرمه ص ۳۹۵)