جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 457 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 457

457 آپ کی فطرت کو رب جلیل کے کلام سے کمال مناسبت ہے۔قرآن کریم کے بے شمار خزائن اس شریف نوجوان کو ودیعت کئے گئے ہیں۔( صفحه ۵۸۷) آپ کو قرآن کریم کے دقائق معرفت اور باریک نکات کے استخراج اور فرقان حمید کے حقائق کے خزائن پھیلانے کا عجیب ملکہ حاصل ہے۔( آئینہ کمالات اسلام صفحه ۴ ۵۸) اسی طرح آپ کی تصانیف کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔جو شخص قرآن کریم کے عمیق مطالب کو حل کرنے اور رب جلیل کی کتاب کے اسرار جاننے کا ارادہ رکھتا ( آئینہ کمالات اسلام ص ۵۸۴) ہو اسے چاہئے کہ آپ کی کتب کا مطالعہ کرے۔آپ کو قرآن کریم سے جو محبت تھی اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ خود فرماتے ہیں:۔مجھے قرآن مجید سے بڑھ کر کوئی چیز پیاری نہیں لگتی۔ہزاروں کتابیں پڑھی ہیں ان سب میں مجھے خدا بدر ۱۸ جنوری ۱۹۱۲ء) کی ہی کتاب پسند آئی۔“ قرآن میری غذا، میری تسلی اور اطمینان کا سچا ذریعہ ہے اور میں جب تک اس کو کئی بار مختلف رنگ میں پڑھ نہیں لیتا مجھے آرام اور چین نہیں آتا۔( ترجمۃ القرآن شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ص ۴۶) اور فرمایا کرتے تھے:۔”خدا تعالیٰ مجھے بہشت اور حشر میں نعمتیں دے تو میں سب سے پہلے قرآن شریف مانگوں گا تا کہ حشر کے میدان میں بھی اور بہشت میں بھی قرآن شریف پڑھوں ، پڑھاؤں اور سنوں۔“ تذکرہ المہدی جلد اول ص ۲۴۶) آپ نے ساری عمر قرآن کریم کے علوم کے اکتساب میں گذاری اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد پر جب آپ ہجرت کر کے قادیان دارلامان تشریف لائے تو اس دن وفات تک نہایت یکسوئی اور نہایت با قاعدگی کے ساتھ قرآن کریم کے پڑھنے اور پڑھانے میں اپنی زندگی کے اوقات صرف فرمائے۔قادیان میں رمضان المبارک کے خصوصی درس کے علاوہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں بھی اور آپ کی وفات کے بعد بھی سارا سال قرآن کریم کا باقاعدگی سے درس دیتے تھے۔ہزاروں صلحاء نے آپ کے درسوں۔اکتساب فیض کیا۔آپ کے درس القرآن کے سلسلہ میں حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی تحریر فرماتے ہیں:۔” حضرت اقدس علیہ السلام بار بار مجھے فرمایا کرتے تھے کہ حضور مولوی نورالدین صاحب کی تفسیر قرآن آسمانی تفسیر ہے۔صاحبزادہ صاحب! ان سے قرآن پڑھا کرو اور ان کے درس قرآن میں بہت بیٹھا کرو اور سنا کرو۔اگر تم نے دو تین سیپارہ بھی حضرت مولوی صاحب سے سنے یا پڑھے تو تم کو قرآن شریف سمجھنے کا ނ