جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 9
9 بائیل عہد نامہ قدیم میں دجالی فتنہ اور اس کی اصلاح کے لئے مبعوث ہونے والے ایک مامور من اللہ کا ذکر ان الفاظ میں ملتا ہے:۔بہت سے لوگ پاک کئے جائیں گے اور سفید کئے جائیں گے اور آزمائے جائیں گے لیکن شریر شرارت کرتے رہیں گے اور جس وقت سے دائمی قربانی موقوف کی جائے گی اور وہ مکروہ چیز جو خراب کرتی ہے قائم کی جائے گی ایک ہزار دو سو نوے دن ہوں گے سیلہ مبارک وہ جو انتظار کرتا ہے اور ایک ہزار تین سو پینتیس روز تک آتا ہے۔“ دانی ایل باب ۱۲ آیت ۱۰ تا ۱۲ پرانا عہد نامہ سٹیم پر لیس ۱۹۰۸، ص۸۶۴) دیگر مذاہب کی مقدس کتب دیگر مذاہب کی مقدس کتب میں بھی آخری زمانہ میں پیدا ہونے والے بگاڑ کی اصلاح کے لئے ایک موعود کی بعثت کے متعلق پیشگوئیاں ملتی ہیں۔ہندو مذہب کی رو سے شری کرشن جی مہاراج کلکی اوتار نیکیوں کی حفاظت گنہگاروں کی سرکوبی اور دھرم کی امامت کے لئے ظاہر ہوں گے۔چنانچہ ہندو مذہب کی ایک مقدس کتاب ”شریمد بھا گوت“ میں لکھا ہے:۔سو ہے راجہ جب کلجگ کے آخر میں بہت سے پاپ ہوتے رہیں گے تو نارائن جی خود دھرم کی رکھشا کی خاطر سنبھل دیش میں کلنکی اوتار دھارن کریں گے۔“ سکھ مذہب کی مقدس کتاب جنم ساکھی میں لکھا ہے :۔شریمد بھاگوت بارہواں اسگند ص ۶۲۳) لے:۔الہامی کتب میں عموماً دن سے مراد سال ہوتے ہیں۔پس مسیح موعود کا ظہور اس پیشگوئی کے مطابق تیرہویں صدی ہجری میں بنتا ہے۔چنانچہ دانیال نبی کی اس پیشگوئی کے مطابق عیسائی دنیا میں ۱۸۶۸ء میں مسیح کی آمد ثانی کا انتظار شروع ہوا۔اور بڑے بڑے حساب دان اور منجمین نے اس پیشگوئی کی بنا پر یکے بعد دیگرے مختلف تاریخیں بیان کیں جن کا مفصل ذکر مسٹر جے بی ڈمبل بی کی مشہور کتاب "The Appointed Time یعنی موعود وقت مطبوعہ لنڈن ۱۸۹۶ء میں موجود ہے۔چنانچہ اس پیشگوئی کے بالکل عین مطابق ۱۲۹۰ھ بمطابق ۱۸۷۳ء میں حضرت بانی سلسلہ شرف مکالمہ ومخاطبہ پاچکے تھے۔