جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 411
411 نوجوانوں نے اپنی زندگیاں وقف کر کے اپنے آقا کی آواز پر لبیک کہا۔چنانچہ ان واقفین کے انٹرویو اور انتخاب کا کام شروع کر دیا گیا۔اور منتخب احباب کی تعلیم و تربیت کے لئے پہلی کلاس جاری کر دی گئی اور اس طرح بہت جلد ان درویشوں کا ایک قافلہ عملی جدوجہد کے واسطے تیار ہو گیا اور یکم فروری ۱۹۵۸ء کو دعاؤں کے ساتھ معلمین کا پہلا قافلہ سوئے منزل روانہ ہوا۔ان معلمین اور بعد میں آنے والے واقفین نے بنیادی ضروریات زندگی کے لئے بھی تھوڑے الاؤنس سے گزارہ کیا۔اپنے اپنے مراکز میں بالعموم اور نگر پارکر جیسے انتہائی پسماندہ علاقہ میں بالخصوص جہاں پینے کا پانی بھی بمشکل دستیاب ہوتا ہے اور اس پانی کا پینا بھی بہت بڑی قربانی ہے مشکل حالات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے سکتی انسانیت کی خدمت کی۔اور اللہ کے فضل وکرم سے بہت عمدہ نتائج سامنے آئے۔دس ہزار معلمین کی ضرورت اگر چه اب معلمین کی تعداد خدا کے فضل سے پہلے سے بڑھ چکی ہے اور پاکستان میں اس وقت معلمین کے سنٹرز کے ذریعہ تقریباً سات ۷۰۰ سو سے زائد دیہات معلمین سے استفادہ کر رہے ہیں۔تاہم اس تحریک کی وسعت اور افادیت و اہمیت کے بالمقابل واقفین کی موجودہ تعداد بالکل ناکافی ہے۔اندازہ فرمائیں کہ حضرت مصلح موعودؓ نے ۱۹۵۹ء میں دس ہزار تک واقفین بڑھانے کا ارشادفرمایا۔آپ فرماتے ہیں۔”اب میں تحریک جدید اور وقف جدید کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں تحریک جدید کو قائم ہوئے ۳۵ سال ہو چکے ہیں۔لیکن وقف جدید کو قائم ہوئے ابھی ایک سال ہوا ہے۔وقف جدید میں شامل ہونے والوں کی درخواستیں برابر چلی آرہی ہیں۔مگر ابھی یہ تعداد بہت کم ہے۔وقف جدید میں شامل ہونے والے لوگ کم از کم ایک ہزار ہونے چاہئیں۔اگر دس ہزار ہوں تو اور بھی اچھا ہے۔اگر ہمارے زمیندار اپنی آمد میں بڑھا ئیں تو وقف جدید کے چندے بھی بڑھ جائیں گے۔اور وہ مزید آدمی رکھ سکیں گے۔“ (الفضل ۳ را پریل ۱۹۵۹ء) معلمین کے اوصاف تحریک وقف جدید کے اجراء سے قبل 9 جولائی ۱۹۵۷ء کو حضرت مصلح موعودؓ نے اس نئے وقف کے لئے جس قسم کے واقفین کی ضرورت ہے، کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔