جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 412
412 میں چاہتا ہوں کہ اگر کچھ نوجوان ایسے ہوں جن کے دلوں میں یہ خواہش پائی جاتی ہے کہ وہ حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتی اور حضرت شہاب الدین صاحب سہروردی کے نقش قدم پر چلیں تو جس طرح جماعت کے نوجوان اپنی زندگیاں تحریک جدید کے ماتحت وقف کرتے ہیں۔وہ اپنی زندگیاں براہ راست میرے سامنے وقف کریں۔تاکہ میں ان سے ایسے طریق پر کام لوں کہ وہ (دینی) تعلیم دینے کا کام کر سکیں۔وہ مجھ سے ہدائتیں لیتے جائیں اور اس ملک میں کام کرتے جائیں۔ہمارا ملک آبادی کے لحاظ سے ویران نہیں ہے۔لیکن روحانیت کے لحاظ سے بہت ویران ہو چکا ہے اور آج بھی اس میں پشتوں کی ضرورت ہے۔سہر وردیوں کی ضرورت ہے اور نقشبندیوں کی ضرورت ہے اگر یہ لوگ آگے نہ آئے اور حضرت معین الدین صاحب چشتی ، حضرت شہاب الدین صاحب سہروردیؒ اور حضرت فرید الدین صاحب شکر گنج جیسے لوگ پیدا نہ ہوئے تو یہ ملک روحانیت کے لحاظ سے بھی ویران ہو جائے گا۔بلکہ یہ اس سے بھی زیادہ ویران ہو جائے گا۔جتنا مکہ مکرمہ کسی زمانہ میں آبادی کے لحاظ سے ویران تھا۔پس میں چاہتا ہوں کہ جماعت کے نوجوان ہمت کریں اور اپنی زندگیاں اس مقصد کے لئے وقف کریں۔“ (الفضل یکم اگست ۱۹۵۷ء خطبہ عید الاضحی و جولائی ۱۹۵۷ء) مذکورہ بالا اوصاف کے علاوہ ایک معلم میں جن خصوصیات کا موجود ہونا ضروری ہے ان کے بارہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث فرماتے ہیں:۔ایک تو آج میں وقف جدید کے سال نو کا اعلان کرتا ہوں اور دوسرے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس اعلان کا یہ مطلب نہیں کہ بس میں نے آواز اٹھائی اور وہ آواز اخبار میں چھپ گئی۔لوگ خاموش ہو گئے۔اور سو گئے بلکہ سال نو کے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے دل میں یہ احساس پیدا ہو کہ نیا سال آ رہا ہے مختلف زاویوں اور پہلوؤں سے نئی ذمہ داریوں اور نئی قربانیوں کو ہم اپنی آنکھوں کے سامنے لاسکیں۔ان میں سے ایک ذمہ داری وقف جدید کی ہے اس ذمہ داری اپنے سامنے رکھیں۔جتنے روپے کی ہمیں ضرورت ہے وہ مہیا کریں اور بطور معلمین جتنے آدمیوں کی ہمیں ضرورت ہے۔ہمیں دیں اور مخلص واقف دیں خدا تعالیٰ کی محبت رکھنے والے اور اس کی خاطر تکلیف برداشت کرنے والے اس کے عشق میں سرشار ہو کر اس کے نام کو بلند کرنے والے مسیح موعود پر حقیقی ایمان لانے کے بعد اور آپ کے مقام کو پوری طرح سمجھنے کے بعد جو ایک احمدی کے دل میں ایک تڑپ پیدا ہونی چاہئے کہ تمام احمدی اس روحانی مقام تک پہنچیں جس مقام تک حضرت مسیح موعود لے جانا چاہتے تھے۔اس تڑپ والے واقفین ہمیں وقف جدید میں چاہئیں۔(الفضل مورخہ ۴ را پریل ۱۹۶۷ء) 66