جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 410
410۔مدرسة الظفر وقف جدید حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے دیہاتی سطح پر احمدی احباب کی تعلیم و تربیت اور دعوت الی اللہ کی غرض سے القاء الہی کے تحت دسمبر ۱۹۵۷ء میں وقف جدید جیسی بابرکت تحریک جاری فرمائی۔اس بابرکت تحریک کے ذریعہ آپ کراچی سے خیبر تک معلمین کا ایک جال پھیلانا چاہتے تھے۔چنانچہ اس مقصد کے پیش نظر آپ فرماتے ہیں:۔”اب میں ایک نئے قسم کے وقف کی تحریک کرتا ہوں۔میں نے اس سے قبل ایک خطبہ جمعہ ( ۹ جولائی ۱۹۵۷ء) میں بھی اس کا ذکر کیا تھا۔میری اس وقف سے غرض یہ ہے کہ پشاور سے لے کر کراچی تک ہمارے معلمین کا جال پھیلا دیا جائے۔اور تمام جگہوں پر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر یعنی دس دس پندرہ پندرہ میل پر ہمارا معلم ہو۔۔پس جماعت کے دوستوں سے میں کہتا ہوں کہ وہ جتنی قربانی کر سکیں اس سلسلہ میں کریں اور اپنے نام اس سکیم کے لئے پیش کریں۔اگر ہمیں ہزاروں معلم مل جائیں تو پشاور سے کراچی تک کے علاقہ کو ہم دینی تعلیم کے لحاظ سے سنبھال سکتے ہیں۔اور ہر سال دس دس ہیں ہیں ہزار اشخاص کی تعلیم و تربیت ہم کر سکیں گے۔بہر حال دوست اس سکیم کو نوٹ کر لیں اس کے لئے اپنے نام پیش کریں۔اور اس سلسلہ میں اگر کوئی مفید بات ان کے ذہن میں آئے تو اس سے بھی اطلاع دیں۔“ مزید فرمایا:۔گو یہ سکیم بہت وسیع ہے مگر میں نے خرچ کو مدنظر رکھتے ہوئے شروع میں صرف دس واقفین لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ممکن ہے بعض واقفین افریقہ سے لئے جائیں۔مگر بہر حال ابتداء دس واقفین سے کی جائے گی اور پھر بڑھاتے بڑھاتے ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔“ (الفضل ۱۶ فروری ۱۹۵۸ء) حضرت مصلح موعود کے ان فرمودات سے اس تحریک کی اہمیت اور برکات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔نیز اس تحریک کے مقاصد حاصل کرنے کے لئے کس قدر زیادہ واقفین کی ضرورت ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا جماعت پر یہ خاص فضل ہے کہ حسب سابق اس تحریک پر بھی خدمت دین کا شوق اور جذب رکھنے والے