جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 392
392 پاس ان کا ریکارڈ رکھنا ہوتا ہے۔علاوہ ازیں نقشہ جات پلاٹس اور پلاٹس کی نشاندہی۔نقشہ جات کی تصدیق کرنا اور ان کی مکمل جانچ پڑتال کرنا اس کمیٹی کا کام ہے۔نیز خریدار کے متعلق تشخیص اور منتقلی وغیرہ کا کام بھی اس صیغہ کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔انتظامی لحاظ سے یہ صیغہ وکیل اعلیٰ تحریک جدید کے ماتحت ہے اس کمیٹی کے چار ممبر ہوتے ہیں۔ا۔ناظر اعلی۔۲۔وکیل اعلیٰ تحریک جدید۔۳۔ناظر امور عامہ۔۴۔سیکرٹری کمیٹی آبادی آڈیٹر تحریک جدید انجمن احمدیہ کے جملہ حسابات کی جانچ پڑتال کے لئے ایک آڈیٹر مقرر ہے جو قطعی طور پر خود مختار ہوتا ہے۔لیکن انتظامی معاملات میں صدر تحریک جدید کے احکامات کا پابند ہوتا ہے۔شعبه تخصص حضرت خلیفہ مسیح الرابع کی دور اندیش نگاہوں نے اگلی صدی میں جماعت احمدیہ پر پڑنے والی ذمہ داریوں کو بھانپتے ہوئے الہی تفہیم کے تحت 3 اپریل 1987ء کو بیت الفضل لندن میں خطبہ جمعہ کے دوران تحریک وقف نو کا اعلان فرمایا۔اس بابرکت تحریک کے نتیجہ میں سینکڑوں احمدی بچوں کا جامعہ احمدیہ میں داخل ہونے کا امکان بلکہ یقین تھا۔اس بابرکت تحریک میں شامل ہونے والے بچوں کا پہلا گروپ 2002ء میں میٹرک پاس کرنے کے بعد جامعہ احمدیہ میں داخل ہونا تھا۔لہذا طلبا جامعہ احمدیہ کی تعداد میں کئی گنا اضافہ نیز جماعت کی دیگر علمی میدانوں میں بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر مختلف مضامین میں سپیشلسٹ مربیان تیار کرنے کی غرض سے ستمبر 1992ء میں وکالت علیا تحریک جدید ربوہ کے زیر انتظام ایک شعبہ تخصص قائم کیا گیا۔ابتداء یہ شعبہ دارالواقفین ربوہ کی عمارت میں قائم کیا گیا اور اس شعبہ کے پہلے نگران مکرم سید میرم احمد صاحب مرحوم کو مقرر کیا گیا۔آپ کی وفات کے بعد مکرم ڈاکٹر سید جلید احمد صاحب کو اس شعبہ کا نگران مقرر کیا گیا جبکہ آج کل مکرم مولانامحمد اعظم اکسیر صاحب مربی سلسلہ اس شعبہ کی نگرانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔مکرم ثاقب کامران صاحب مربی سلسلہ آپ کے نائب اور مکرم مولانا صدیق احمد منور صاحب آپ کی معاونت کر رہے ہیں۔اب تک اس شعبہ کے تحت سو سے زائد مربیان کرام متعدد مضامین میں تخصص مکمل کر کے دنیا کے مختلف ممالک میں قائم جامعات اور دیگر علمی شعبہ جات میں علمی اور انتظامی خدمت بجالا رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے خاکسار کو اسی شعبہ کے تحت علم الکلام میں تخصص کرنے کی توفیق ملی ہے۔مسعود