جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 359
359 ا۔سادہ زندگی اس زمانہ میں مالی قربانی کی بہت ضرورت ہے اس لئے سب مرد اور عورتیں اپنی زندگی کوسادہ بنائیں اور اخراجات کم کر دیں تا کہ جس وقت قربانی کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز آئے وہ تیار ہوں۔قربانی کے لئے صرف تمہاری نیت ہی فائدہ نہیں دے سکتی جب تک تمہارے پاس سامان بھی مہیا نہ ہوں۔۔۔پیس اگر سامان مہیا نہ ہوں تو ہم وہ قربانی کسی صورت میں بھی پیش نہیں کر سکتے جس کی ہمیں خواہش ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر ایک سادہ زندگی اختیار کرے تا کہ وقت آنے پر وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے تقریر فرموده ۲۶ مئی ۱۹۳۵ء مطبوعه الفضل ۱۲ جون ۱۹۳۵ء) سامنے پیش کر سکے۔“ ۲۔امانت فنڈ ’ جماعت کے مخلص افراد کی ایک جماعت ایسی نکلے جو اپنی آمد کا ۱۷۵ سے ۱٫۳ حصہ تک سلسلہ کے مفاد کے لئے تین سال تک بیت المال میں جمع کرائے۔“ ( خطبه جمعه فرموده ۲۳ نومبر ۱۹۳۴ء الفضل ۲۹ نومبر ۱۹۳۴ء) ۳۔دشمن کے گندے لٹریچر کا جواب دشمن کے مقابلہ کے لئے اس وقت بڑی ضرورت ہے کہ وہ جو گندالٹر پچر ہمارے خلاف شائع کر رہا ہے اس کا جواب دیا جائے یا اپنا نقطہ نگاہ احسن طور پر لوگوں تک پہنچایا جائے۔“ (خطبه جمعه فرموده ۱۵/ نومبر ۱۹۳۵ء الفضل ۱۹/ نومبر ۱۹۳۵ء) ۴ تبلیغ بیرون ہند ”مذہبی سلسلے ضرور ایک وقت دنیا کے تو پچانوں کی زد میں آتے ہیں اور وہ کبھی ظلم وستم کی تلوار کے سایہ کے بغیر ترقی نہیں کر سکتے۔پس ان کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ مختلف ممالک میں ان کی شاخیں ہوں تا کہ اگر ایک جگہ وہ ظلم وستم کا تختہ مشق ہوں تو دوسری جگہ ان کی امن کے ساتھ ترقی ہو رہی ہو ان کا مذہبی لٹریچر دشمن کی دست برد سے محفوظ رہے۔جو شخص بھی اس سلسلہ کو ایک آسانی تحریک سمجھتا ہے اسے اس امر کیلئے تیار ہونا پڑے گا اور جو اس نکتہ کو نہیں سمجھتا۔وہ حقیقت میں اس سلسلہ کو نہیں سمجھتا۔غرض سلسلہ احمدیہ کسی جگہ بھی اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھ سکتا اس لئے جب تک ہم سارے ممالک میں اپنے لئے جگہ کی تلاش نہ کریں ہم کامیاب نہیں ہو سکتے (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۳۰ نومبر۱۹۳۴، مطبوعه الفضل ۲۹ نومبر ۱۹۳۴ء)