جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 358 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 358

358 ترقی نہیں کیا کرتیں۔قربانیاں قوموں کی سانس ہوتی ہیں جب تک وہ قائم رہتی ہیں قوم زندہ رہتی ہے اور ترقی کرتی چلی جاتی ہے اور جب قربانیاں نہیں رہتیں تو تو میں بھی نہیں رہا کرتیں۔پس ان قربانیوں کیلئے جماعت کی ایسے رنگ میں تربیت کرنا کہ وہ ماحول پیدا ہو جائے جو قربانیاں کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ان دو مقاصد کے حصول کے لئے ضرورت تھی۔ا۔آدمیوں کی ۲۔روپے کی ۳۔عزم واستقلال کی ۴۔دعاؤں کی اس کے لئے حضرت مصلح موعودؓ نے تحریک جدید کی سکیم پیش کی جس میں آپ نے احباب جماعت سے مختلف اوقات میں مختلف مطالبات کئے۔انہی چیزوں کے مجموعے کا نام تحریک جدید ہے۔یہ ایک ضابطہ حیات ہے۔تحریک جدید دراصل قربانی ہی کا دوسرا نام ہے۔حضرت مصلح موعودؓ تحریک جدید کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔وو تمام لوگوں تک پہنچنے کے لئے ہمیں آدمیوں کی ضرورت ہے، ہمیں روپیہ کی ضرورت ہے، ہمیں عزم اور استقلال کی ضرورت ہے اور ہمیں ان دعاؤں کی ضرورت ہے، جو خدا تعالیٰ کے عرش کو ہلا دیں اور انہی چیزوں کے مجموعہ کا نام تحریک جدید ہے۔تحریک جدید کو اس لئے جاری کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ ہمارے پاس ایسی رقم جمع ہو جائے ، جس سے خدا تعالیٰ کے نام کو دنیا کے کناروں تک آسانی اور سہولت سے پہنچا دیا جائے۔تحریک جدید کو اس لئے جاری کیا گیا ہے تا کہ کچھ افراد ایسے میسر آجائیں، جو اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے وقف کر دیں اور اپنی عمریں اس کام میں لگادیں۔تحریک جدید کو اس لئے جاری کیا گیا ہے تاکہ وہ عزم اور استقلال ہماری جماعت میں پیدا ہو، جو کام کرنے والی جماعتوں کے اندر پایا جانا ضروری ہوتا ہے۔۔۔۔تو تحریک جدید سے میری غرض جماعت میں صرف سادہ زندگی کی عادت پیدا کرنا نہیں۔بلکہ میری غرض انہیں قربانیوں کے تنور کے پاس کھڑا کرنا ہے۔“ (خطبہ جمعہ فرموده ۲۷ نومبر۱۹۴۴، مطبوعه الفضل ۱۲ دسمبر ۱۹۴۲ء) ( بحوالہ ماہنامہ انصار اللہ حضرت مصلح موعوددؓ نمبر ماہ مئی، جون، جولائی ۲۰۰۹ صفحه ۲۷۱ تا ۲۷۴ از میگرم خالد محمودالحسن بھٹی صاحب وکیل الدیوان تحریک جدیدر بوہ ) مطالبات تحریک جدید حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ نے تحریک جدید کے تحت جماعت سے مختلف اوقات میں مختلف مطالبات کئے جن کی کسی قدر تفصیل حسب ذیل ہے جو مطالبات تحریک جدید کہلاتے ہیں۔