جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 357
357 وو ا میرے ذہن میں یہ تحریک بالکل نہیں تھی۔اچانک میرے دل پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تحریک نازل ہوئی۔پس بغیر اس کے کہ میں کسی قسم کی غلط بیانی کا ارتکاب کروں میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ تحریک جدید جو خدا نے جاری کی ، میرے ذہن میں یہ تحریک پہلے نہیں تھی۔میں بالکل خالی الذہن تھا۔اچانک اللہ تعالیٰ نے یہ سکیم میرے دل پر نازل کی اور میں نے اسے جماعت کے سامنے پیش کر دیا۔پس یہ میری تحریک نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی نازل کردہ تحریک ہے۔“ ( خطبه جمعه فرموده ۲۷ نومبر ۱۹۴۲ء مطبوعه الفضل ۱۲ دسمبر ۱۹۴۲ء) یہ مت خیال کرو کہ تحریک جدید میری طرف سے ہے۔نہیں بلکہ اس کا ایک ایک لفظ میں قرآن کریم سے ثابت کر سکتا ہوں اور ایک ایک حکم رسول کریم ﷺ کے ارشادات میں دکھا سکتا ہوں پس یہ خیال مت کرو کہ جو میں نے کہا ہے وہ میری طرف سے ہے بلکہ یہ اس نے کہا ہے جس کے ہاتھ میں تمہاری جان ہے۔میں اگر مر بھی جاؤں تو وہ دوسرے سے یہی کہلوائے گا اور اس کے مرنے کے بعد کسی اور سے۔بہر حال چھوڑے گا نہیں جب تک تم سے اس کی پابندی نہ کرالے۔“ ( خطبه جمعه فرموده ۱۳دسمبر ۱۹۳۵ء الفضل ۲۱ ؍ دسمبر ۱۹۳۵ء) تحریک جدید کے اغراض و مقاصد دعوت الی اللہ اور تربیت تحریک جدید کے اجراء کی دو بنیادی اغراض اور مقاصد تھے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود نے اپنے خطبہ جمعہ فرموده ۱۸/ نومبر ۱۹۳۸ء میں فرمایا:۔وو تبلیغ اور تعلیم وتربیت دو نہایت ہی اہم کام ہیں اور انہی دونوں کاموں کو تحریک جدید میں مدنظر رکھا گیا ہے۔“ تبلیغ : اس سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں توحید کا قیام اور دین حق کی اصل تعلیم کی اشاعت کی جائے۔لوگوں کے سامنے دین حق کی صحیح اور خوبصورت تصویر پیش کی جائے۔تا تمام دنیا تک حضرت محمد مصطفی ﷺ کا پیغام پہنچ سکے اور وہ آپ کے جھنڈے تلے آکر نجات پائیں۔یعنی اس مقصد کو حاصل کیا جاسکے جس کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود کو مبعوث کیا گیا تھا۔تربیت : اس سے مراد یہ ہے کہ احباب جماعت کی ایسے رنگ میں تربیت کی جائے کہ دنیا میں اسلامی تمدن کو قائم کیا جائے۔احباب جماعت اپنی زندگی کو اس نمونہ کے مطابق ڈھالیں جس کو صحابہ نے پیش کیا۔اسی طرح اپنی زندگی گزاریں اور انہی کی طرح ہر وقت ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار رہیں۔کیونکہ قربانیوں کے بغیر قو میں