جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 278 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 278

278 عائشہ دینیات اکیڈمی و مدرسۃ الحفظ برائے طالبات عائشہ دینیات اکیڈمی ربوہ کا قیام 17 / مارچ ۱۹۹۳ء کو عمل میں آیا۔اس کے قیام کا واحد مقصد احمدی بچیوں کو زیادہ سے زیادہ خدمت قرآن اور حصول تعلیم قرآن اور تعلیم دین کے مواقع فراہم کرنا ہے۔یہ ادارہ نظارت تعلیم صدر انجمن احمدیہ کی زیر نگرانی کام کر رہا ہے۔اس ادارہ کے ۲ شعبے ہیں۔اول: مدرسه الحفظ طالبات: جس میں ہر سال کلام پاک حفظ کرنے کا شوق اور اہلیت رکھنے والی بچیوں کو قواعد وضوابط کے تحت داخلہ دیا جاتا ہے۔ادارہ میں ۶۰ طالبات کی گنجائش ہے۔ان طالبات کو تین مختلف احزاب میں تقسیم کیا جاتا ہے جنہیں تین اساتذہ کرام قرآن کریم حفظ کرواتی ہیں۔حفظ کے لئے زیادہ سے زیادہ تین سال کا عرصہ مقرر ہے۔حفظ مکمل کرنے کے بعد ہر طالبہ چوتھے حزب یعنی دہرائی والی کلاس میں چلی جاتی ہے جہاں قرآن کریم کی دو دہرائیاں کروائی جاتی ہیں۔دہرائیاں مکمل کرنے کے بعد ادارہ کی سینئر ٹیچر طالبات سے ٹیسٹ لیتی ہیں۔ٹیسٹ کے تسلی بخش ہونے پر طالبات کا فائنل ٹیسٹ دلوایا جاتا ہے جو کہ مکرم پرنسپل صاحب مدرستہ الحفظ طلباء لیتے ہیں۔کامیابی پر نظارت تعلیم کی طرف سے طالبہ کو حافظہ کی سند دی جاتی ہے۔بیرون از ربوہ طالبات بھی مدرسہ الحفظ میں داخلہ لیتی ہیں لیکن چونکہ فی الحال ادارہ کا ہوٹل نہیں ہے۔اس لئے ایسی طالبات کو اپنی رہائش کا خود انتظام کرنا پڑتا ہے۔طالبات کو مکرم جناب ناظر صاحب تعلیم کی طرف سے انتظام کے تحت بریک میں روزانہ ریفرشمنٹ کے لئے دودھ کے ساتھ بسکٹ، انڈے نیز موسمی پھل دیئے جاتے ہیں۔اسی طرح طالبات کی قابلیت کو اجاگر کرنے اور ان کو محنت اور شوق کی ترغیب دلانے کے لئے نظارت تعلیم کی طرف سے انعامی وظیفہ مقرر کیا گیا ہے جو کہ ماہانہ کارکردگی پر دیا جاتا ہے۔دوئم :۔عائشہ دینیات کلاس: اس کے اجراء کی وجہ یہ تھی کہ شروع سے ہی جماعت کے تعلیمی اداروں میں یعنی گرلز سکول اور کالج میں دینیات کا مضمون لازمی رہا۔ہر طالبہ کے لئے ضروری تھا کہ وہ اس میں کامیابی حاصل کرے اس کے بغیر بورڈ، یو نیورسٹی کے امتحان کے لئے داخلہ نہیں بھجوایا جاتا تھا نتیجتاً میٹرک پاس کرنے کے ساتھ ہی ہر طالبہ قرآن کریم