جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 279
279 کا سادہ ترجمہ سیکھ لیتی تھی نیز نصاب میں شامل کتب حضرت مسیح موعود بھی پڑھ لیتی تھی جس کے علوم تا زندگی مشعل راہ بنتے ہیں اس طرح بی اے کا امتحان دینے سے پہلے ترجمۃ القرآن از تفسیر صغیر واحادیث اور دین کے علوم سے بھی آراستہ ہو جاتی تھیں۔مگر ۱۹۷۲ء میں جماعتی تعلیمی اداروں کو قومیائے جانے کے بعد طالبات کو اداروں کے اندر اس تعلیم سے محرومی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مارچ ۱۹۹۳ء میں نظارت تعلیم کے تحت اور حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ پاکستان اور حضرت سیدہ ناصرہ بیگم صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ ربوہ کی رہنمائی میں عائشہ دینیات کلاس کا قیام عمل میں آیا۔عائشہ دینیات کلاسز کا کورس دو سالوں پر محیط ہے۔جس کے لئے نظارت تعلیم سے منظورشدہ مجوزہ نصاب مقرر ہے۔جو کہ ترجمۃ القرآن از تفسیر صغیر صحیح تلفظ قرآن کریم ، مقررہ نصاب حفظ قرآن، کتب احادیث، تاریخ اسلام، تاریخ احمدیت ، کلام حضرت مسیح موعود اور کتب علماء کرام سلسلہ احمدیہ، کے ساتھ ساتھ عربی گرائمر ، عربی بول چال نیز قصیدہ کے حفظ پر مشتمل ہے۔نصاب دو سال میں چار سمیسٹر ز کی صورت میں مکمل کروایا جاتا ہے۔ہر سمیسٹر مکمل ہونے پر فائنل امتحان لیا جاتا ہے اور طالبات کو ہر سمیسٹر کی الگ سنددی جاتی ہے۔داخلہ کے لئے کم از کم تعلیمی معیار میٹرک ہے۔اس کے علاوہ ایف۔اے۔بی اے اور ایم۔اے، ایم۔ایس سی طالبات بھی داخل ہو کر دینی تعلیم حاصل کر کے علم میں اضافہ کرتی ہیں۔ارشاد نبوی کے مطابق علم کا حصول بچپن سے لے کر زندگی کے آخری سانس تک جاری رہنا چاہیئے اس لئے دینیات کلاس میں داخلہ کے لئے عمر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔شادی شدہ خواتین بھی داخلہ لے کر استفادہ کر سکتی ہیں۔دینیات کلاس میں داخلہ فیس ۲۰ روپے اور ماہانہ فیس • اروپے ہے۔