جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 277 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 277

277 میں ۵۳ طلباء کی گنجائش موجود ہے۔ہوٹل کے طلبا کے لئے نماز فجر کے بعد آدھا گھنٹہ اور نماز عشاء کے بعد دو گھنٹے سٹڈی ٹائم ہوتا ہے۔تدریسی اوقات کار چھ گھنٹے ہوتے ہیں جس میں طلبا اپنے سبق ، گزشتہ سات دنوں کے اسباق اور منزل ( حفظ کئے ہوئے پاروں کی بالترتیب دوہرائی ) سناتے ہیں۔تمام طلباء کا ہفتہ وار اور ماہانہ جائزہ لیا جاتا ہے۔مدرسۃ الحفظ کے طلباء کے لئے علمی، ذہنی اور روحانی تعلیم کے ساتھ جسمانی تربیت بھی دی جاتی ہے اور با قاعدہ کھیل کا وقت مقرر ہے۔طلبا کے مطالعہ کے لئے مدرسہ میں ایک لائبریری قائم کی گئی ہے جس میں سیرت تعلیم و تربیت، اخلاقیات اور معلومات پر مشتمل کتب و رسائل رکھے گئے ہیں۔سمعی و بصری کے تحت تلاوت قرآن کی سی ڈیز (CDs) اور آڈیو ٹیسٹس رکھی گئی ہیں۔حفاظ کرام کا ریکارڈ خدا تعالیٰ کے فضل سے مارچ ۱۹۵۷ء سے جون ۲۰۰۰ ء تک ۱۸۷، جبکہ جولائی ۲۰۰۰ ء تک ۲۶۴ طلباء نے قرآن کریم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔اس طرح کل ۴۵۱ طلباء مدرسۃ الحفظ سے قرآن کریم مکمل حفظ کرنے کی سعادت حاصل کر چکے ہیں۔(اس سے پہلے کے حفاظ کا معین ریکارڈ معلوم نہیں ہو سکا۔ناقل ) ان حفاظ میں پاکستان اور بیرون پاکستان کے طلبا بھی شامل ہیں۔بیرون ملک سے آنے والے طلباء میں نائیجیریا، غانا، کینیڈا، نجی، یوگنڈا ، ماریشس اور سیرالیون سے طلبا حفظ قرآن کی سعادت پاچکے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ادارہ کو ترقیات سے نوازے۔اس مدرسہ سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا کو علوم قرآن کا حامل اور اس کی تعلیمات پر عامل بنائے۔آمین (ماخوذ از روزنامه الفضل ۹ دسمبر ۲۰۰۲ء صفحه ۳ ۴ رالفضل ۱۳دسمبر ۲۰۰۷ صفحه الفضل ۲ دسمبر ۲۰۱۰ء صفحه ۲) ۲ دسمبر ۲۰۰۰ کو برطانیہ میں مدرسۃ الحفظ قرآن عمل میں آیا جس میں ٹیلی فون اور جز وقتی کلاسوں کے ذریعہ بچوں کو قرآن کریم حفظ کروایا جاتا ہے۔اس کا نام ”الحافظون رکھا گیا ہے۔“ ( بحواله الفضل روزنامه الفضل ۳ دسمبر ۲۰۰۸، صفحه ۱۳۹) اس کے علاوہ قادیان (بھارت)، غانا، نائیجیر یا اور کینیڈا میں جامعہ احمدیہ کے ساتھ مدرسۃ الحفظ قائم ہیں۔