جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 230 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 230

230 ۶۔ناظر جائیداد کو یہ حق یا اختیار ہرگز نہیں ہوتا کہ انجمن کی کوئی جائیدادصدرانجمن احمدیہ کی واضح اور صریح منظوری کے بغیر فروخت یار بہن یا کسی اور طرح منتقل کرے۔( قاعدہ نمبر ۲۴۴) ۷۔ناظر جائیداد، صدرانجمن احمدیہ کی طرف سے کسی شخص یا اشخاص یا کمیٹی وغیرہ سے کوئی سودا کرے تو اس کے لئے ضروری ہوتا کہ وہ مقامی امیر یا امراء سے اس کے متعلق مشورہ کر لے اورصدرانجمن احمد یہ سے اس کی منظوری حاصل کرے۔( قاعدہ نمبر ۲۴۵)۔جملہ مساجد جماعت احمدیہ، مربی ہاؤسز ، دفاتر ، مہمان خانے مرکز میں ہوں یا بیرون از مرکز کی دستاویزات کی تکمیل و حفاظت عمارات کی دیکھ بھال و نگرانی اس نظارت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔البتہ مقامی انجمنوں کی عمارات کی تعمیر ومرمت پر خرچ کرنا مقامی انجمنوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔( قاعدہ نمبر ۲۴۶) ۹ - نظارت جائیداد و املاک کے ذمہ ان فرائض کی بجا آوری بھی ہوگی جو خلیفتہ المسیح کی طرف سے اس کے سپر د کئے جائیں۔( قاعدہ نمبر ۲۴۷) نوٹ :۔فی الحال جائیداد و املاک کے لئے کوئی علیحدہ نظارت قائم نہیں ہے۔اس لئے اس صیغہ کا کام ایک ناظم کے سپر د ہے جو ناظم جائیداد کہلاتا ہے۔یہ صیغہ بیت المال خرچ کے ماتحت ہے۔نظارت صنعت و تجارت ا۔سلسلہ کے فرائض دربارہ صنعت و تجارت کے لئے ایک نظارت ہے جس کا نام نظارت صنعت و تجارت ہے اور اس کا انچارج ناطر صنعت و تجارت کہلاتا ہے۔( قاعدہ نمبر ۲۴۸) ۲۔صنعت و تجارت کی ترقی کے وسائل معلوم کرنا اور ان سے فائدہ اٹھانے کے لئے جماعت میں تحریک کرنا اور اس کے متعلق ضروری معلومات کا مہیا کرنا۔احمدی تاجروں اور صنعت کاروں کا باہم رابطہ کروانا یہ سب کام اس نظارت کے سپر د ہوتے ہیں۔( قاعدہ نمبر ۲۴۹) ۳- نظارت صنعت و تجات کے ذمدان دیگر فرائض کی بجا آوری بھی ہوتی ہے جو خلیفتہ اسی کی طرف سے اس کے سپرد کئے جائیں۔( قاعدہ نمبر ۲۵۰) نوٹ :۔فی الحال یہ نظارت بھی نظارت امور عامہ کے ساتھ منسلک ہے۔اور اس شعبہ کا نگران ناظر امور عامہ ہی ہوتا ہے۔