جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 213
213 ہاتھ میں مستور اور مخفی طور پر ایک کتاب رہے جس میں اس جماعت کی لڑکیوں اور لڑکوں کے نام لکھے رہیں اور اگر کسی لڑکی کے والدین اپنے کنبہ میں ایسی شرائط کا لڑکا نہ پاویں جو اپنی جماعت کے لوگوں میں سے ہو اور نیک چلن اور نیز ان کے اطمینان کے موافق لائق ہو۔ایسا ہی اگر ایسی لڑکی نہ پاویں تو اس صورت میں ان پر لازم ہوگا کہ وہ ہمیں اجازت دیں کہ ہم اس جماعت میں سے تلاش کریں۔اور ہر ایک کو تسلی رکھنی چاہئے کہ ہم والدین کے بچے ہمدرداور غمخوار کی طرح تلاش کریں گے اور حتی الوسع یہ خیال رہے گا کہ وہ لڑکا یا لڑکی جو تلاش کئے جائیں اہل رشتہ کے ہم قوم ہوں۔اور یا اگر یہ نہیں تو ایسی قوم میں سے ہوں جو عرف عام کے لحاظ سے باہم رشتہ داریاں کر لیتے ہوں۔اور سب سے زیادہ یہ خیال رہے گا کہ وہ لڑکا یا لڑکی نیک چلن اور لائق بھی ہوں اور نیک بختی کے آثار ظاہر ہوں۔یہ کتاب پوشیدہ طور پر رکھی جائے گی اور وقتا فوقتا جیسی صورتیں پیش آئیں گی اطلاع دی جائے گی۔اس لئے ہمارے مخلصوں پر لازم ہے کہ اپنی اولاد کی ایک فہرست اسماء ( ناموں کی ایک فہرست ) بقید عمر و قومیت بھیج دیں تا وہ کتاب میں درج ہو جائے۔( مجموعہ اشتہارات۔جلد سوم صفحہ 51,50) حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔وو 66 یہ حضرت مسیح موعود کی طرف سے ایک اعلان تھا۔اسی کے تحت اب یہ شعبہ رشتہ ناطہ مرکز میں بھی قائم ہے، تمام دنیا میں بھی قائم ہے۔پاکستان میں پہلے شعبہ رشتہ ناطه نظارت اصلاح و ارشاد مرکزیہ کے تحت کام کر تا رہا ہے۔اپریل 2005ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اسے باقاعدہ ایک نظارت کا درجہ دے دیا اور اس کا نام نظارت اصلاح وارشا درشتہ ناطہ تجویز فرمایا۔اس کے پہلے ناظر محترم سید محمود احمد شاہ صاحب مقرر ہوئے۔موجودہ ناظر محترم راجہ نصیر احمد صاحب ہیں۔نظارت اصلاح وارشاد رشتہ ناطہ کے بنیادی طور پر دو شعبے ہیں۔1۔رشتہ ناطہ 2۔رجسٹریشن ا۔رشتہ ناطہ ایسے لڑکے اور لڑکیاں جن کے والدین اپنے بچوں اور بچیوں کے رشتہ کے سلسلہ میں نظام جماعت سے مدد لینا چاہیں، اُن کی سہولت کے لیے نظارت اصلاح وارشا در شتہ ناطہ کی طرف سے انہیں ایک کوائف فارم مہیا کیا جاتا ہے۔جس میں لڑ کے رلڑکی کا نام، ولدیت، عمر تعلیم اور قوم وغیرہ سے متعلق معلومات پوچھی جاتی ہیں۔