جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 140
140 خواہشمند نہیں۔اگر خواہش ہے تو یہ کہ میرا مولیٰ مجھ سے راضی ہو جائے۔اس خواہش کے لئے میں دعائیں کرتا ہوں۔قادیان بھی اسی لئے رہا اور رہتا ہوں اور رہوں گا۔میں نے اس فکر میں کئی دن گزارے کہ ہماری حالت حضرت صاحب کے بعد کیا ہوگی۔اسی لئے میں کوشش کرتا رہا کہ میاں محمود کی تعلیم اس درجہ تک پہنچ جائے۔۔اگر تم میری بیعت ہی کرنا چاہتے ہو تو سن لو کہ بیعت بک جانے کا نام ہے“۔آخر میں آپ نے ارشاد فرمایا:۔اب تمہاری طبیعتوں کے رخ خواہ کسی طرف ہوں تمہیں میرے احکام کی تعمیل کرنی ہوگی۔اگر یہ تمہیں منظور ہو تو طوعاً و کرہاً اس بوجھ کو اٹھاتا ہوں۔وہ بیعت کے دس شرائط بدستور قائم ہیں۔ان میں خصوصیت سے میں قرآن کو سیکھنے اور زکوۃ کا انتظام کرنے ، واعظین کے بہم پہنچانے اور ان امور کو جو وقتا فوقتا اللہ میرے دل میں ڈالے، شامل کرتا ہوں۔پھر تعلیم دینیات، دینی مدرسے کی تعلیم میری مرضی اور منشاء کے مطابق کرنا ہوگی اور میں اس بوجھ کو صرف اللہ کے لئے اٹھاتا ہوں جس نے فرمایا:۔وہ مرچکی۔“ وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ۔یا درکھو کہ ساری خوبیاں وحدت میں ہیں جس کا کوئی رئیس نہیں ( الحکم ۶ جون ۱۹۰۸ء ص ۸، ۷ ) اس تقریر کے بعد بیک زبان حاضرین نے بآواز بلند یہ عہد کیا کہ ہم آپ کے تمام احکام ما نہیں گے۔آپ ہمارے امیر ہیں اور مسیح موعود کے جانشین۔چنانچہ اس اقرار کے بعد الحاج حضرت حکیم نورالدین خلیفہ امسیح الاول نے جملہ حاضرین سے جن کی تعداد بارہ سوتھی۔بیعت خلافت کی اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تاریخ میں ایک نیا دن طلوع ہوا۔یہ دن قدرت ثانیہ کا دن تھا جس نے تا ابد جماعت احمدیہ کے ساتھ رہنا تھا اور جس کی خوشخبری حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کو دی تھی۔(بحوالہ سوانح فضل عمر جلد ا ص ۱۸۱ تا۱۸۳۔شائع کردہ فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ) پس اس طرح مسند احمد بن حنبل جلد ۴ ص ۲۷۳ کی مذکورہ بالا حدیث کے مطابق امت محمدیہ میں ایک بار پھر خلافت علی منہاج النبوۃ کا قیام عمل میں آیا۔جس نے قیامت تک جاری وساری رہنا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی بیعت کامل اتحاد کے ساتھ ہوئی جس میں ایک منفرد آواز بھی خلاف نہیں اٹھی اور نہ صرف افراد جماعت نے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان نے آپ کی خلافت کو تسلیم کیا بلکہ صدرانجمن احمدیہ نے بھی ایک متحدہ فیصلہ کے ماتحت اعلان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وصیت کے مطابق حضرت الوی نورالدین صاحب کو حضرت مسیح موعود کا خلیفہ منتخب کیا گیا ہے اور ساری جماعت کو آپ کی بیعت کرنی چاہئے۔اعلان خواجہ کمال الدین سیکرٹری صدر انجمن احمد یہ بحوالہ الحکم ۲۸ مئی ۱۹۰۸ء والبدر۲ جون ۱۹۰۸ء)