جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 139 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 139

139 انتخاب خلافت اولی جماعت احمدیہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال پر متفقہ طور پر جس طریق پر اجماع کیا وہ خلافت راشدہ کا طریق تھا۔اس کے مقابل پر پیری مریدی یا بادشاہی کے فرسودہ نظام کو بھی رد کر دیا گیا اور دنیاوی جمہوریت کے اس نظام کو بھی ٹھکرا دیا گیا جو مغربی فلسفہ کی پیداوار ہے۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حضور کے وصال کے بعد آپ کی تدفین سے پہلے جب آپ کی نعش مبارک بہشتی مقبرہ میں تدفین کے لئے لائی گئی تو جماعت کے برسر آوردہ لوگوں نے باہم مشورہ سے نئے امام کی جانشینی کے مسئلے پر غور کرنا شروع کیا۔مکرم خواجہ کمال الدین صاحب نے جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت صاحب کی وفات سے دو چار روز پہلے رویا میں یہ دکھایا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب آپ کی جانشینی کریں گے۔بزرگان جماعت اور انجمن کے سرکردہ ممبروں میں حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب کو خلیفہ منتخب کرنے کے بارہ میں رائے ظاہر کی۔تمام احباب جماعت کی نظریں پہلے ہی اس بزرگ اور عاشق صادق غلام پر پڑ رہی تھیں۔چنانچہ بلا توقف ہر ایک نے آپ کے حق میں رائے دی۔البتہ مولوی محمد احسن صاحب سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے مشورہ دیا کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سے بھی مشورہ کر لینا ضروری ہے۔چنانچہ جب آپ سے مشورہ لیا گیا تو آپ نے نہایت شرح صدر سے اس رائے سے اتفاق کرتے ہوئے فرمایا:۔حضرت مولانا سے بڑھ کر کوئی نہیں اور خلیفہ ضرور ہونا چاہئے اور حضرت مولانا ہی خلیفہ ہونے چاہئیں ورنہ اختلاف کا اندیشہ ہے اور حضرت اقدس کا ایک الہام ہے کہ اس جماعت کے دو گروہ ہوں گے ایک کی طرف خدا ہوگا“۔( اصحاب احمد جلد دوم ص ۵۸۹ طبع اول ۱۹۵۲ء ) حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اکابرین جماعت نے جب متفقہ طور پر یہ درخواست کی کہ وہ خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو آپ نے ایک نہایت پر از معرفت تقریر فرمائی جس میں جماعت کو تو حید کا سبق دے کر الہی خوشخبریوں کے پورا ہونے کے فلسفہ کے بارہ میں کچھ فرمایا اور پھر اپنے امام منتخب ہونے سے متعلق اپنے دلی جذبات اور خیالات کا ان الفاظ میں اظہار فرمایا :۔” میری پچھلی زندگی پر غور کر لو۔میں کبھی امام بننے کا خواہشمند نہیں ہوا۔مولوی عبدالکریم مرحوم امام الصلوۃ بنے تو میں نے بھاری ذمہ داری سے اپنے تئیں سبکدوش خیال کیا تھا۔میں اپنی حالت سے خوب واقف ہوں اور میرا رب مجھ سے بھی زیادہ واقف ہے میں دنیا میں ظاہر داری کا خواہشمند نہیں۔میں ہرگز ایسی باتوں کا