جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 141
141 حضرت خلیفہ المسیح الاول کے مختصر سوانح حیات قدرت ثانیہ کے مظہر اول آسمان احمدیت کے روشن ستارے، کمالات روحانیہ کے جامع ، صفات نورانیہ کے خزانہ، معارف قرآنیہ کے چشمہ رواں ، شمع مہدویت کے پروانے ،صدیقی جمال کے مظہر، فاروقی جلال کے آئینہ حاجی الحرمین سید نا حضرت حافظ حکیم مولانا نورالدین صاحب بھیروی خلیفتہ المسیح الاول ۱۸۴۱ء میں پاکستان کے ایک قدیم اور تاریخی شہر بھیرہ میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد محترم کا نام حضرت حافظ غلام رسول صاحب اور والدہ ماجدہ کا نام نور بخت تھا۔آپ کا سلسلہ نسب بتیس واسطوں کے ساتھ حضرت عمر فاروق تک اور والدہ ماجدہ کا سلسلہ نسب حضرت علی تک پہنچتا ہے۔اس لحاظ سے آپ فاروقی بھی ہیں اور علوی بھی۔آپ کا خاندان بہت علم دوست اور دیندار تھا۔دن رات قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ اس خاندان میں جاری تھا۔آپ نے قرآن کریم اپنی ماں کی گود میں ہی پڑھا تھا۔آپ شروع سے ہی غضب کا حافظہ رکھتے تھے حتی کہ آپ کو اپنا دودھ چھڑانا بھی یاد تھا۔آپ بچپن میں تیرا کی کے بہت شوقین تھے۔آپ کو بچپن ہی سے کتابوں کے ساتھ بہت محبت تھی۔جب بڑے ہوئے تو دینی علم حاصل کرنے کے لئے لاہور، رام پور، دہلی لکھنو اور بھوپال وغیرہ میں مقیم رہے۔نیز حصول علم کی خاطر ۶۵ ۱۸۶۶ء میں آپ مکہ اور مدینہ میں بھی تشریف لے گئے۔ڈیڑھ برس وہاں رہ کر دینی علوم حاصل کئے اور حج کا شرف حاصل کرنے کے بعد وطن واپس لوٹے اور بھیرہ میں قرآن مجید و احادیث کے درس و تدریس کا سلسلہ جاری کر دیا۔ساتھ ہی آپ نے مطلب بھی شروع کر دیا۔طب میں آپ کی شہرت اتنی بڑھی کہ دور دراز کے لوگ آپ کی خدمت میں علاج کے لئے حاضر ہوتے تھے۔حتی کہ کشمیر کے مہاراجہ کی درخواست پر آپ وہاں تشریف لے گئے اور ایک عرصہ تک خاص شاہی طبیب کے طور پر دوبار جموں وکشمیر سے وابستہ رہے۔اس عرصہ میں آپ مطب کے علاوہ ریاست میں اسلام کی تبلیغ واشاعت کے لئے بھی کوشاں رہے اور درس و تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔۱۸۸۵ء میں حضرت مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود کا ایک اشتہار پہلی بار پڑھا۔اس کا اتنا گہرا اثر ہوا کہ حضور کی زیارت کے لئے قادیان پہنچ گئے اور حضور پر پہلی نظر ڈالتے ہی حضور کی صداقت کے قائل ہو گئے۔یہ آپ کی حضور کے ساتھ پہلی ملاقات تھی۔اس ملاقات کے بعد آپ ہمیشہ کے لئے حضور کے جانثار خادموں میں شامل ہو گئے۔جب ۱۸۸۹ء میں بمقام لدھیانہ پہلی بار بیعت ہوئی تو آپ نے سب سے پہلے