جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 88 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 88

88 نبی اپنے سے پہلے نبی کی نصف عمر ضرور زندہ رہا ہے۔اور انہوں نے مجھے یہ بھی خبر دی ہے کہ عیسی بن مریم ایک سو بیس سال زندہ رہے اور میں اپنے آپ کو نہیں سمجھتا مگر صرف ساٹھ سال کے سرے پر جانے والا۔۲- لَوْ كَانَ مُوسَى وَ عِيسَى حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتِّبَاعِى۔(تفسیر ابن کثیر جلد ۲ ص ۲۴۶ بر حاشيه تفسير فتح البيان اليواقيت والجواهر مصنفه عبدالوهاب الشعرانی” ص ۲۰٫۲) - ترجمہ :۔اگر موسیٰ اور عیسی دونوں زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری پیروی کے بغیر چارہ نہ ہوتا۔وفات مسیح اور اقوال بزرگان امت جماعت احمدیہ کے علاوہ امت محمدیہ کے بے شمار بزرگ وفات مسیح کو تسلیم کرنے والے ہیں۔ا۔شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ سرمحمد اقبال صاحب فرماتے ہیں:۔”جہاں تک میں نے اس تحریک کی منشاء کو سمجھا ہے احمدیوں کا یہ اعتقاد کہ مسیح کی موت ایک عام فانی انسان کی موت تھی اور رجعت مسیح گویا ایسے شخص کی آمد ہے جو روحانی حیثیت سے اس کا مشابہ ہے۔اس خیال سے یہ تحریک معقولی رنگ رکھتی ہے۔“ (خطبات مدارس) ۲۔مولانا ابوالکلام مرحوم۔ڈاکٹر انعام اللہ خاں صاحب سالاری کے ایک استفسار مرقومه ۶ / اپریل نہیں ہوتا۔“ ۱۹۵۶ء کے جواب میں لکھتے ہیں :۔وفات مسیح کا ذکر خود قرآن مجید میں ہے۔مرزا صاحب کی تعریف اور برائی کا سوال ہی پیدا ( ملفوظات آزاد مر تبہ محمد اجمل خالص ۱۲۹ مطبوعہ مکتبہ ماحول کراچی ) سرسید احمد خاں صاحب اپنی تفسیر میں وفات مسیح پر تفصیل سے بحث کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :۔اب ہم کو قرآن مجید پر غور کرنا چاہئے کہ اس میں کیا لکھا ہے۔قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے متعلق چار جگہ ذکر آیا ہے۔پہلی تین آیتوں سے حضرت عیسی علیہ السلام کا طبعی موت سے وفات پانا ظاہر ہے۔مگر چونکہ علماء اسلام نے یہ تقلید بعض فرق نصاری کے قبل اس کے کہ قرآن پر غور کریں یہ تسلیم کر لیا تھا۔کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر چلے گئے۔اس لئے انہوں نے ان آیتوں کے بعض الفاظ کو اپنی غیر محقق تعلیم کے مطابق کرنے کی کوشش کی ہے۔" ( تفسیر احمدی مصنفہ سرسید احمد خان جلد ۲ ص ۴۸) علامہ محمد عنایت اللہ المشرقی (بانی خاکسارتحریک) اپنی مشہور تصنیف ” تذکرہ میں تفصیل سے وفات پر تاریخی شہادت پر بحث کرنے کے بعد تحریر کرتے ہیں:۔