جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 89 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 89

89 اس میں یہ عبرت انگیز سبق موجود ہے کہ حضرت عیسی کی موت بھی اس سنت الہی کے مطابق ہوئی جس کے بابت قرآن نے کہا ہے لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلًا ( تذکرہ جلد اول ص ۱۶۔۷ ارح) غلام احمد پرویز صاحب ایڈیٹر ماہنامہ طلوع اسلام نے وفات مسیح پر اپنی تصانیف میں سیر حاصل بحث کی ہے۔شعلہ مستور میں آپ لکھتے ہیں:۔تصریحات بالا سے یہ حقیقت سامنے آگئی کہ قرآن کریم نے کس طرح یہودیوں اور عیسائیوں کے اس خیال اور باطل عقیدہ کی تردید کر دی ہے کہ حضرت مسیح کو صلیب دیا گیا تھا۔باقی رہا عیسائیوں کا یہ عقیدہ کہ آپ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے تھے تو قرآن سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔بلکہ اس میں ایسے شواہد موجود ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ آپ نے دوسرے رسولوں کی طرح اپنی مدت عمر پوری کرنے کے بعد وفات پائی۔شعله مستور شائع کرده اداره طلوع اسلام کراچی ص۸۰) مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب نے وفات مسیح کا تو کھلے طور پر اقرار نہیں کیا۔لیکن وہ رفع جسمانی پر بھی یقین نہیں رکھتے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں:۔قرآن کی رو سے زیادہ مطابقت اگر کوئی طرز عمل رکھتا ہے تو وہ صرف یہی ہے کہ رفع جسمانی کی تصریح سے بھی اجتناب کیا جائے اور موت کی تصریح سے بھی۔بلکہ مسیح علیہ السلام کے اٹھائے جانے کو اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ کا ایک غیر معمولی ظہور سمجھتے ہوئے اس کی کیفیت کو اسی طرح مجمل چھوڑ دیا ہے۔“ ( مولانا مودودی پر اعتراضات کا عملی جائزہ حصہ اول ص ۱۶۹) وفات مسیح پر صحابہ کرام کا اجماع آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد سب سے پہلے جو اجماع ہوا اور جس میں شریک سب کے سب افراد صحابہ کرام تھے۔وہ اجماع وفات مسیح پر ایک قطعی دلیل ہے۔آنحضرت ﷺ کی وفات صحابہ کے لئے ایک نا قابل برداشت صدمہ تھا۔اور ان میں سے بعض فرط محبت سے اس حقیقت کو تسلیم ہی نہیں کرتے تھے۔چنانچہ حضرت عمر ان صحابہ میں سے تھے جو آنحضرت عے کو وفات یافتہ تصور ہی نہیں کر پاتے تھے۔چنانچہ لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا:۔مَامَاتَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَمُوتُ حَتَّى يَقْتُلَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ۔“ صلى الله ( در منشور جلد ۴ ص ۳۱۸) یعنی آنحضرت ﷺ وفات نہیں پائیں گے جب تک اللہ تعالی منافقین کو قتل نہیں کر دیتا۔اس نازک