جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 87
87 علیہ السلام کی صلیب یا بذریعہ قتل موت کی نفی کی گئی ہے۔پس ان کے لئے طبعی موت پانا ثابت ہوا۔اگر وہ زندہ ہوتے تو قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کے بعد إِلَّا عِیسی کہہ کر ان کا استثناء کیا جاتا۔تا یہ استدلال ہوسکتا کہ وہ زندہ ہیں اور ان کے سوا باقی نبی گزر چکے ہیں۔٣- قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا (بنی اسرائیل:۹۴) ترجمہ :۔(اے رسول!) تو کہہ دے۔میں تو صرف ایک بشر رسول ہوں۔استدلال :۔کفار نے آنحضرت ﷺ سے یہ معجزہ مانگا کہ جب تک تو ہماری آنکھوں کے سامنے آسمان پر جا کر کوئی کتاب نہ لائے جیسے ہم خود پڑھ لیں اس وقت تک ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے۔خدا تعالیٰ نے کفار کے اس مطالبے کے جواب میں فرمایا:۔قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلا یعنی اے رسول ! تو یہ کہ کہ میں تو صرف ایک بشر رسول ہوں۔اور کسی بشر کے لئے آسمان پر جسم عنصری کے ساتھ جانا قانون قدرت کے خلاف ہے۔اگر آنحضرت علیہ جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر نہیں جاسکتے تو حضرت عیسی علیہ السلام جسم خاکی کے ساتھ کیسے آسمان پر چلے گئے۔اگر یہ تسلیم کر لیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے جسد خاکی کے ساتھ آسمان پر گئے ہیں تو پھر ماننا پڑے گا وہ بشر انسان نہیں تھے بلکہ ان میں اٹو ہیت کی صفات پائی جاتی تھیں۔جس سے عیسائیت کو تقویت پہنچتی ہے۔پس اس آیت کریمہ سے حضرت عیسی علیہ السلام کے آسمان پر جانے کے عقیدہ کا رد ہوتا ہے۔اور یہ ماننا پڑتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام بھی دیگر انبیاء کی طرح وفات پاگئے ہیں۔وفات یح از روئے حدیث ا۔عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوَفِّيَ فَيْهِ لِفَاطِمَةَ اَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُنِى الْقُرْآنَ فِى كُلَّ عَامٍ مَرَّةً وَإِنَّهُ عَارِضَنِي الْقُرْآنَ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ وَ أَخْبَرَنِى أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَاشَ عِشْرِينَ وَمِائَةَ سَنَةٍ وَلَا أَنِّي إِلَّا ذَاهِبًا عَلَى رَأْسِ السِّتِينَ۔( کنز العمال جلد ۶ ص۱۹۰) ترجمہ:۔ام المومنین حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی مرض میں جس صلى الله میں آپ کی وفات ہوئی۔حضرت فاطمہ سے فرمایا۔کہ جبریل ہر سال ایک مرتبہ میرے ساتھ قرآن کریم دہراتے تھے اور اس سال انہوں نے دو دفعہ میرے ساتھ قرآن دہرایا ہے اور انہوں نے مجھے خبر دی ہے کہ ہر