جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 86
86 معبود بناؤ۔خدا کے سوا۔تو عیسی نے کہا۔پاک ہے تو ناممکن تھا میرے لئے کہ میں کہوں۔جس کا مجھے کوئی حق نہ تھا۔اگر میں نے ایسا کیا ہو تو تجھے معلوم ہی ہوگا۔تو جانتا ہے جو میرے نفس میں ہے۔اور میں نہیں جانتا جو تیرے نفس میں ہے یقینا تو غیوں کو خوب جاننے والا ہے۔میں نے ان سے نہیں کہا۔مگر وہی جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا۔کہ عبادت کرو اللہ کی۔جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔اور میں ان پر نگران تھا۔جب تک میں ان میں موجود رہا۔پس جب تو نے مجھے وفات دی تو تو ہی ان پر نگران تھا۔اور تو ہی ہر چیز پر نگران ہے۔استدالال:- اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ حضرت عیسی سے بطور حکایت ذکر کر کے فرماتا ہے۔فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی كُنتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمُ یعنی قیامت کو خدا تعالیٰ عیسی سے پوچھے گا کہ کیا تو نے اپنی قوم کو یہ علیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے مانا کرو تو وہ جواب دیں گے کہ جب تک میں اپنی قوم میں تھا میں ان کو یہی تعلیم دیتا رہا کہ خدا ایک ہے اور میں اس کا رسول ہوں اور پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو مجھے اس کے بعد ان کے عقائد کاعلم نہیں۔اس آیت میں حضرت عیسی اپنی وفات کا صاف اقرار کرتے ہیں۔اور اس میں یہ بھی اقرار ہے کہ میں دنیا میں واپس نہیں گیا۔کیونکہ اگر وہ دنیا میں واپس آئے ہوتے تو پھر اس صورت میں قیامت کے دن یہ کہنا جھوٹ تھا کہ مجھے اپنی امت کی کچھ بھی خبر نہیں کہ میرے بعد انہوں نے کونسا طریق اختیار کیا کیونکہ اگر یہ عقیدہ صحیح ہے کہ وہ قیامت سے پہلے دنیا میں واپس آئیں گے اور عیسائیوں سے لڑائیاں کریں گے تو پھر قیامت کے دن انکار کر کے یہ کہنا کہ عیسائیوں کے بگڑنے کی مجھ کو کچھ خبر نہیں سراسر جھوٹ ہوگا۔نعوذ باللہ ٢- مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ : قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ طَ أَفَإِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُم ( آل عمران: ۱۴۵) عَلَى أَعْقَابِكُمْ۔ترجمہ: نہیں ہیں محمد ( ﷺ ) مگر اللہ کے رسول۔ان سے پہلے سب رسول گزر چکے ہیں۔اگر وہ مر جائیں یا قتل ہوں تو کیا تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے؟ استدلال: اس آیت کریمہ میں سب نبیوں کے گزر جانے سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے آنے والے تمام رسول وفات پاچکے ہیں۔کوئی ان میں سے زندہ نہیں۔افَإِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ میں گزرنے کے دو طریق ہی بیان کئے گئے ہیں۔موت اور قتل کیا جانا۔آیت وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ میں حضرت عیسی