جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 89
اُٹھتے بیٹھتے اظہار کرتا تھا۔اور اُن کے اسی جذبہ نے ان مسلمانوں کو بھی بہت متاثر کیا جو مرزا غلام احمد کی تعلیمات کو تفصیلی طور پر نہیں جانتے تھے۔در اصل مرزا غلام احمد نے اپنی تصانیف اور تحریروں کے ذریعے ایک دور میں تہلکہ مچا دیا۔جب براہین احمدیہ شائع ہوئی تو مولانا محمد حسین بٹالوی نے اسی کتاب کے بارے میں لکھا تھا۔یہ کتاب اس زمانہ کی موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں شائع نہیں ہوئی آئندہ کی خبر نہیں ، لعل الله يحدث بعد ذالك امرا اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی و جانی قلمی و لسانی اور حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر مسلمانوں میں بہت کم پائی جاتی ہے۔ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ سمجھے تو ہم کو کم از کم ایک ایسی کتاب بتلا دے جس میں جملہ فرقہائے مخالفین اسلام خصوصاً آریہ سماج دیر سمو سماج سے اس زور تقوی سے مقابلہ پایا جاتا ہو۔اور دو چار ایسے اشخاصی انصارا سلام کی نشاندہی کر دے جنہوں نے اسلام کی نصرت مالی و جانی و قلمی و لسانی کے علاوہ حالی نصرت کا بیڑہ بھی اُٹھایا ہو اور مخالفین اسلام ومنکرین الہام کے مقابلے میں مڑا نہ تخدمی کے ساتھ یہ دعوی کیا ہو کہ جس کو وجود الہام کا شک ہو وہ ہمارے پاس آکر تجربہ و مشاہدہ کہ ہے اور اس تجربہ و مشاہدہ کا اقوام غیر کو مزہ بھی چکھا دیا