جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 88 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 88

AA شرعی کے بعد یہ دلائل میں داخل ہے۔یہ باطنی دولت انبسیار کا حصہ ہے جو بطور وراثت انبیاء کی حقیقی اولاد یعنی متبعین کو ملتی ہے۔" (دلائل السلوک صفحه ۱۲۲-۱۲۳۰- ناشر اداره نقشبندیه اویسیہ چکوال) نیز فرماتے ہیں :۔تجبریل ولی اللہ کے پاس آسکتے ہیں صرف وحی شرعی اور وحی احکامی کا سلسلہ ختم ہوا کیونکہ دین مکمل ہو چکا ہے" (ایضاً صفحہ ۱۲۷) ر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی لیے زندہ نبی یقین کرتے تھے کہ آپ کی پیروی سے وحی وا امام کا سلسلہ قیامت تک جاری ہے۔جناب مولانا اللہ یار صاحب اسی جدید علم کلام کے خوشہ چلین ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ حضرت اقدس نے دنیا بھر میں پوری قوت و شوکت سے یہ منادی فرمائی کہ آنحضرت کی غلامی کے طفیل مجھے مکالمہ مخاطبہ المیہ کی نعمت سے نوازا گیا ہے اور کوئی نہیں کہ اس میں میرا مقابلہ کر سکے مگر مولانا صاحب موصوف صرف " آسکتے" کی منزل تک رسائی یا سکتے ہیں سے چراغ مرده کجا شمع آفتاب کجا ببین تفاوت راه از کجا است تا بکجا عبداللہ ملک صاحب جیسے سوشلسٹ رینجا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی نسبت لکھتے ہیں :۔مرزا غلام احمد کی تعلیمات اور تنظیم نے یقیناً ایک ایسا گروہ پیدا کیا جو اپنے اندر ایک جذبہ رکھتا تھا جو مذہب سے شیفتگی کا