جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 85
اور ہوا کو تسخیر کر رہی ہے اور اس نے جدید انسان کو پرندہ سے تیز رفتار اور سبک بنا دیا ہے ، دوسری طرف اس میں درندگی خونخواری اور مردم آزادی کی وہ صفت ہے جس سے وہ پورے یورسے ملکوں اور قوموں کو نیست و نابود کرنے میں کوئی تخلف محسوس نہیں کرتی اور نہ صرف لعلمانی فصلوں اور گل و گلزار زمینوں کو بلکہ باغ انسانی کو اس طرح تباہ و برباد کرتی ہے کہ اس کی نظیر تاریخ میں نظر نہیں آتی اور یہ سب عیش و آرام ، رزق کی فراوانی راحت و آسائش اور آرائش و زیبائش کے اس ساز و سامان اور اسباب و وسائل کے ساتھ ہے جو شایدہ تاریخ کے کسی اور دور میں اتنی کثرت و عمومیت سے امتیا نہ ہوئے تھے۔" حدیث میں آتا ہے :- وهم في ذلك دار رزقهم اس حالت میں ان کا رزق من حسن عيشهم۔کی طرح برس رہا ہو گا اور عیش صحیح سلم روایت عبداللہ بن عمرو کے سب سامان مہیا ہوں گے۔ا معرکہ ایمان و مادیت صفحه ۱۳۹-۱۴۱- تالیف مولانا سید ابوالحسن ندوی ناشر مجلس تحقیقات و نشریات اسلام لکھنو) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے ہندی اور پنجابی ہونے پر ابھی تک زبان طعن دراز کی جاتی ہے اور اکثر نگا ہیں آج بھی ظہورہ مہدی کے لیے سرزمین عرب کی طرف دیکھ رہی ہیں مگر مولانا سید ابوالحسن ندوی صاحب عربوں کی افسوسناک دینی و اخلاقی حالت پر نوحہ کناں ہیں اور انہیں زبر دست انتباہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :-