جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 84
۸۴ ان نخرج اليه له مقید کر دے گا، اس اندیشہ سے کہ یہ دجال کے پاس جائیں۔سوسائٹی کا فساد اور اخلاقی انحطاط اور زوال اس درجہ پر پہنچے جائے گا کہ حدیث کے الفاظ میں :- فيبقى شرار الناس في صرف بُرے لوگ باقی رہ جائیں گے خفة الطير واحلام السباع، جو چڑیوں کی طرح ہلکے اور درندوں لا يعرفون معروفا ولا کی کسی عقلیں رکھنے والے ہونگے ينكرون متكراً نہ اچھائی کو وہ اچھائی سمجھیں گے نہ بوائی کو گیرائی۔موجودہ مادہ پرستانہ اور کافرانہ تہذیب کی یہ وہ بلیغ تعبیر اور زندہ تصویر ہے جس میں اس کے نقطہ عروج کا نقشہ پیش کر دیا۔گیا ہے، اور اس کے اہم مرکزوں اور قلعوں کی بہت واضح طور پر نشاندہی کردی گئی ہے۔یہ در اصل نبوت کے ان لافانی معجزوں میں سے ایک معجزہ اور رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم کے اس جامع و مانع کلام کا ایک بہترین نمونہ ہے ، جس کے عجائبات و کمالات کبھی ختم نہیں ہوتے اور جس کی تازگی اور جدت ہمیں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔اس میں شبہ نہیں کہ موجودہ تہذیب میں ایک طرف پرندوں کا سا ہلکا پن ہے اور وہ فضاؤں میں اڑ رہی ہے ہ طیراتی معن ابن عمر رضی اللہ عنہ که می مسلم دروایت عبد اللرین گار و ابن العاص رضی اللہ عنہ۔