جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 80
A۔ے وقت تھا وقت مسیحانہ کسی اور کا وقت یکی نہ آتا تو کوئی اور ہیں آیا ہوتا ربانی سلسلہ احمدید؟ مولانا عبد الرحمن طا ہر سورتی۔عرب کا بے مثال ماہر لسانیات علامہ ابو الفتح عثمان ابن بینی اپنی شہرہ آفاقی کتاب الخصائص میں یہ اقرار کرنے پر مجبور ہے کہ عربی زبان الہامی ہے یا دوسری زبانوں کی طرح انسانوں کی ایجاد ہے۔اس بارے میں میں کوئی رائے قائم نہیں کر سکا مگر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے عربی تالیف من الرحمن کے ذریعہ غربی زبان کو ام الا سینه ثابت کر کے پوری علمی دنیا کو انگشت بدنداں کر دیا۔اس شاندار انگستان کی نسبت عرب علماء و فضلاء کی کوئی تحریر اب تک میری نظر سے نہیں گزری۔پاکستان کے اکابر علماء میں سے مولانا عبد الرحمن خانہ مورتی پہلے محقق و فاضل ہیں جنہوں نے عربی کو اتم الاسنہ یقین کرنے کا اعلان فرمایا ہے۔چنانچہ آپ استاذ احمد حسن زیارت کی کتاب تاریخ الادب العربی کے اردو ایڈیشن کے ابتدائیہ میں لکھتے ہیں عربی زبان کے ام الائ نہ ہو نے میں شک نہیں (صفحہ ۲۶ ناشر کتاب شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور جون ۶۱۹۶۱ ) مولانا الحاج قاری محمد طیب صاحب پر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے جدید علم کلام کا نہایت وجد آفریں انعکاس اُن شریرات سے بخوبی عیاں ہے جو شان خاتمیت محمدی کے سلسلہ میں اُن کے قلم سے نکلی ہیں۔مثلاً فرماتے ہیں :- لیکن پھر سوال یہ ہے کہ جب خاتم الرد قالین کا اصلی مقابلہ تو شا شیخ احمد الاسکندری اور شیخ عنانی یک اب ماہرین اس نتیجہ بچہ پہنچ سکے ہیں کہ عربی تمام سامی " زبانوں کی ماں سے قریب تر ہے۔(الوسیط فی الادب العربي و تاریخہ )