جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 81 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 81

خاتم النبیین سے ہے مگر اس مقابلہ کے لیے نہ حضور کا دنیا میں دوبارہ تشریف لانا مناسب نہ صدیوں باقی رکھا جانا شایان شان ن زمانہ نبوی میںمقابلہ ختم کرایا جانا مصلحت اور ادھر اسی ختم دقایت کے استیصال کے لیے چھوٹی موٹی روحا نیست تو کیا بڑی سے بڑی ولایت بھی کافی نہ تھی۔عام مجددین اور ارباب ولایت اپنی پوری روحانی طاقتوں سے بھی اس سے عہدہ برآنہ ہو سکتے تھے جبتک کہ نبوت کی روحانیت مقابل نہ آئے۔بلکہ محض نبوت کی قوت بھی اس وقت تک مؤثر نہ تھی جب تک کہ اُس کے ساتھ ختم نبوت کا پاور شامل نہ ہو تو پھر شکست دجالیت کی صورت بجز اس کے اور کیا ہوسکتی تھی کہ اس دنبال اعظم کو نیست و نابود کرنے کے لیے امت میں ایک ایسا خاتم المحمد دین آئے جو خاتم النبیین کی غیر معمولی قوت کو اپنے اندر جذب کئے ہوئے ہو اور ساتھ ہی خاتم النبیین سے ایسی مناسبت تامہ رکھتا ہو کہ اس کا مقابلہ بعینہ خاتم النبیین کا مقابلہ ہو۔مگر یہ بھی ظاہر ہے کہ ختم نبوت کی روحانیت کا انجذاب اسی مجدد کا قلب کر سکتا تھا جو خود بھی نبوت آشنا ہوئی مرتبہ ولایت میں یہ تحمل کہاں کہ وہ درجہ نبوت کی بھی برداشت کر سکے چہ جائیکہ ختم نبوت کا کوئی انعکاس اپنے اندر اتار نہیں بلکہ اس انعکاس کے لیے ایک ایسے نبوت آشنا قلب کی ضرورت تھی جو فی الجملہ خاتمیت کی ہوئی شان بھی اپنے اندر رکھتا ہو۔تا کہ خاتم مطلق کے کمالات کا عکس اُس نہیں اتر سکے اور ساتھ ہی اس خانم مطلق کی