جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 79 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 79

29 ง تھا جس کی وجہ سے وہ ہر چیز کو اُن کتابوں میں تلاش کرتے تھے جو خدا کی کتا ہیں نہ تھیں کہ زمانے کی قیود سے بالا تر ہوتیں۔وہ ہر معاملہ میں اُن انسانوں کی طرف رجوع کرتے تھے جو خدا کے نبی نہ تھے کہ اُن کی بصیرت اوقابت اور حالات کی بندشوں سے بالکل آزاد ہوتی۔پھر یہ کیونکر ممکن تھا کہ وہ ایسے وقت میں مسلمانوں کی کامیاب رہنمائی کر سکتے جب کہ زمانہ بالکل بدل چکا تھا اور یکم عمل کی دنیا میں ایسا عظیم تغیر واقع ہو چکا تھا جس کو خدا کی نظر تو دیکھ سکتی تھی مگر کسی غیر نبی انسان کی نظر میں یہ طاقت نہ تھی کہ قرنوں اور صدیوں کے پردے اٹھا کر ان تک پہنچ سکتی یا ا تنظیمات فخمه ۲۰۰۲۷ طبع میفتم ۱۹۹۳ ۱ ناشر اسلامک پبلیکیشنز لاموا ے کام نیز تسلیم کیا کہ :- اکثر لوگ اقامت دین کی تحریک کے لیے کسی ایسے موڈل کو ڈھونڈتے ہیں جو ان میں سے ایک ایک شخص کے تصویر کامل کا مجتمہ ہو۔۔۔۔۔دوسرے الفاظ میں یہ لوگ دراصل نہی کے طالب ہیں اگر چہ زبان سے ختم نبوت کا اقرار کرتے ہیں اور کوئی اجرائے نبوت کا نام بھی لے رہے تو اس کی زبان گدی سے کھینچنے کے لیے تیار ہو جائیں مگر اندر سے اُن کے دل نبی سے کم کسی پر رائٹی نہیں؟ اخبار مسلمان ۲۴ / فروری ۶۱۹۴۳ بحواله الفضل ۶ / مارچ ۶۱۹۴۳ صفحه ۱)