جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 55 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 55

۵۵ صاحبوں نے بڑی ہمت کر کے مانحن فیہا میں قدم رکھا مگر اُلٹا۔اس لیے انہوں نے یا تو مقرر کردہ مضامین پر سنہ گفتگو نہ کی یا بے سر و پا کچھ بانک دیا۔جیسا کہ ہماری آئندہ کی رپورٹ سے واضح ہو گا۔غرض مجلسہ کی کارروائی سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ صرف ایک حضرت مرزا غلام احمد صاحب رہیں قادیان تھے جنہوں نے اس میدان مقابلہ نہیں، اسلامی پہلوانی کا پورا حق ادا فرمایا ہے اور اس انتخاب کو راست کیا ہے جو خاص آپ کی ذات کو اسلامی و سنیل مقرر کرنے میں پیشاور۔راولپنڈی جہلم۔شاہ پور بھیرہ - خوشاب - سیالکوٹ - جموں۔وزیر آباد - لاہور - امرتسر - گورداسپور لودھیانہ شملہ، دہلی- انبالہ - ریاست پٹیالہ کپورتھلہ ڈیرہ دون۔الہ آباد- مدراس بیٹی۔حیدر آباد دکن نیکور وغیرہ بلاد ہند کے مختلف اسلامی فرقوں سے وکالت ناموں کے ذریعے مزین با خط ہو کر وقوع میں آیا حق تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر اس جلسے میں حضرت مرزا صاحب کا مضمون نہ ہوتا تو اسلامیوں پر غیر مذاہب والوں کے رو برو ذلت و ندامت کا قشقہ لگتا۔مگر خدا کے زبر دست ہاتھ نے مقدس اسلام کو گرنے سے بچا لیا بلکہ اس کو اس مضمون کی بدولت ایسی فتح نصیب فرمانی که موفقین تو موافقین مخالفین بھی سچی فطرتی جوش سے کہہ اُٹھے کہ یہ مضمون سب پر بالا ہے۔بالا ہے۔صرف اسی قدر نہیں بلکه اختتام مضمون پر حق الامر معاندین کی زبان پر یوں جاری ہو چکا کہ اب اسلام کی حقیقت کھلی اور اسلام کو فتح نصیب ہوئی جو