جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 54 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 54

۵۴ کھایا۔اور کہاں تک انہوں نے اسلامی حمایت کا بیڑا اٹھا کر بھیج دو براہین کے ذریعے فرقانی مصیبت کا رستہ غیرمنا اس کے دل پر بٹھانے کیلئے کوشش کی ہے۔ہمیں معتبر ذریعے سے معلوم ہوا ہے کہ کارکنان جلسہ نے خاص طور پر حضرت مرزا غلام احمد صاحب اور سرسید احمد صاحب کو شریک طلبہ ہونے کے لیے خط لکھا تھا تو حضرت مرزا صاحب نے گو علالت طبع کی وجہ سے بنفس نفیس شریک جلسہ نہ ہو سکے مگر اپنا مضمون بھیج کر اپنے ایک شاگرد خاص جناب مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کو اس کی قرات کے لیے مقرر فرمایا۔لیکن جناب سرسید نے شریک جلسہ ہونے اور مضمون بھیجنے سے کنارہ کشی فرمائی کا یہ اس بناء پر نہ تھا کہ وہ عمر ہو چکے اور ایسے جلسوں میں شریک ہونے کے قابل نہ رہے ہیں اور نہ اس بناء پر تھا کہ انہیں ایام میں ایجو کیشنل کانفرنس کا انعقاد میں مٹھ مقدر ہو چکا تھا بلکہ یہ اس بناء پر تھا کہ مذہبی جلسے ان کی تو جبر کے قابل نہیں۔کیونکہ انہوں نے اپنی میٹھی میں جس کو ہم انشاء اللہ تم اپنے اخبار میں کسی اور وقت ورج کریں گے صاف لکھ دیا ہے کہ وہ کوئی واعظ یا ناصح یا مولوی نہیں یہ کام واعظوں اور ناصحوں کا ہے۔جلسے کے پروگرام کے دیکھنے اور نیز تحقیق کرنے سے ہمیں یہ پتہ ملا ہے کہ جناب مولوی سید محمد علی صاحب کانپوری، جناب مولوی محمد عبدالحق صاحب دہلوی اور جناب ڈی احمد سین صاحت عظیم آبادی نے اس جلسہ کی طرف کوئی جو شیلی توجہ نہیں فرمائی اور نہ ہمارے مقدس زمرہ علماء سے کسی اور لائق فرو نے اپنا مضمون پڑھنے یا پڑھوانے کا عرجم بتایا۔ہاں دو ایک عالم