جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 147
۱۴۷ شملہ کے احمدیوں سے ملاقات ۱۹۰۷ء کے اخیر میں مجھے شملہ جانے کا حکم ملا نہیں نے وہاں کے جنگی دفتر میں جانا تھا۔اور ریل پر سے اُتر کر میں نے اپنا اسباب کمپنی کی سرائے میں رکھا۔اور خود دفتر میں گیا۔پھڑا سیوں سے دریافت کیا کہ یہاں صرف گورے ہی ہیں یا دیسی بھی۔ایک نے کہا کہ یہاں ایک مولوی خدا بخش میں میں اُن سے ملا بہت محبت سے پیش آئے اور خود بخود ہی کہنے لگے۔شیر جنگ تم اچھے ہو حالانکہ میں نے ابھی اپنا نام نہیں بتلایا تھا۔مجھے حیرانی ہوئی۔یہ خزانچی تھے بکیں نے پوچھا آپ نے کس طرح پہچان لیا؟ کہنے لگے بعد میں بتلاؤں گا۔میرا خیال تھا کہ دفتر سے دریافت کر لیا ہوگا۔نہیں بعدمیں معلوم ہوا کہ میرے آنے کی خبر صرف کمپنی کو تھی اور اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے خواب کے ذریعے میری شکل دکھائی تھی۔اور اس نے میرے آنے سے قبل ہی اپنے چند دوستوں کو میرا حلیہ بتلا دیا تھا۔پھر وہ مجھے اپنی جگہ لے گئے۔اُس جگہ شام کو دس بارہ آدمی آئے۔سب نے لکھانا کھایا اور نمازادا کی، پھر انہوں نے مجھے کہا کہ جب تک آپ کا انتظام نہ ہو سکے ہمارے ساتھ ہی رہیں۔سب سے مجھے محبت ہوگئی۔سب نماز پڑھتے صبح کو تلاوتِ قرآن کریم کرتے۔بعض امیر اور بعض غریب تھے لیکن سب میں مساوات اسلامی پائی جاتی تھی۔مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ لوگ احمدی ہیں۔ایک دن بالائی بازار میں مجھے چند سلمان ملے اور چار وغیرہ سے تواضح کی اور مجھے کہنے لگے کہ جن کے ساتھ تم رہتے ہو اور کھاتے پیتے ہو وہ تو مرزائی بے ایمان ہیں (نعوذ باللہ) اُن کے پاس سے چلے آئیے۔میں نے پوچھا کہ کیا وہ مسلمان نہیں ؟ کہنے لگے کہ نہیں۔میں نے کہا اگر یہ لوگ کافر ہیں تو میں ایسے کافروں کو ہی پسند کروں گا اور تم سے