اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 40
مادی طاقت پر نہیں بلکہ ان سچے دلائل و براہین کی قوت پر ہوتا ہے جس پر وہ مذہب قائم ہو۔قرآن کریم کا موقف اس سلسلہ میں دوٹوک اور معین ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ حق کو مٹانے کے لئے اور باطل کی تائید میں خواہ کیسی ہی زبردست طاقتیں بروئے کار لائی جائیں وہ ہمیشہ ناکام اور نامراد ر ہیں گی۔دلائل اور براہین کی قوت مادی ہتھیاروں کی طاقت پر بہر حال غالب آ کر رہتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے۔وده وه لاو هسه قَالَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلْقُوا اللَّهِ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةً بِاذْنِ اللهِ وَاللهُ مَعَ الصَّابِرِينَ (سورۃ البقره آیت ۲۵۰) ترجمہ۔(تب) ان لوگوں نے جو یقین رکھتے تھے کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں کہا کہ کتنی ہی کم تعداد جماعتیں ہیں جو اللہ کے حکم سے کثیر التعداد جماعتوں پر غالب آ گئیں۔اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔اسلام کی برتری اور غلبے کے نظریے کو مذکورہ بالا ارشاد خداوندی کے سیاق وسباق میں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔قرآن کریم کی ایک اور آیت میں فرمایا۔وه - ط b رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُ أُولئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلا إِنَّ حِزْبَ اللهِ الْمُفْلِحُونَ (سورۃ المجادلہ آیت ۲۳) هم ترجمہ۔اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے۔یہی اللہ کا گروہ ہیں۔خبردار! اللہ ہی کا گروہ ہے جو کامیاب ہونے والے لوگ ہیں۔تاریخ اسلام میں ہونے والی پہلی جنگ ” جنگ بدر“ کہلاتی ہے۔اس جنگ میں مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت کے بالمقابل مشرکین مکہ کی ایک بہت کثیر تعداد صف آراء تھی جو سامان حرب سے پوری طرح لیس تھی۔مسلمان اول تو تعداد میں 40 40