اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 41
بہت تھوڑے تھے دوسرے ان کے پاس ہتھیار بھی بہت کم اور معمولی قسم کے تھے جو نہ ہونے کے برابر تھے۔اس صورت حال میں مسلمانوں پر ایک دفاعی جنگ مسلط کر دی گئی تھی۔مسلمان اپنی ذاتی بقاء کے لئے نہیں بلکہ اپنے نظریے کے تحفظ کی خاطر جنگ لڑنے پر مجبور تھے۔چنانچہ قرآن کریم اس ضمن میں فرماتا ہے۔لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَبَحْيُ مَنْ حَيَّ عَنْ بَيْنَةِ ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ (سورۃ الانفال آیت ۴۳) ترجمہ۔تا کہ کھلی کھلی حجت کی رو سے جس کی ہلاکت کا جواز ہو وہی ہلاک ہوا اور کھلی کھلی حجت کی رو سے جسے زندہ رہنا چاہئے وہی زندہ رہے۔اور یقینا اللہ بہت سننے والا (اور ) دائمی علم رکھنے والا ہے۔یہ دراصل وہ دائمی اصول ہے جس نے نوع انسانی کے ارتقاء میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔بقائے اصلح (survival of the fittest) اس کا خلاصہ اور لب لباب ہے یعنی جو زیادہ موزوں اور بہتر ہے وہی باقی رکھا جاتا ہے اور دراصل زندگی کے ارتقاء کا طریق بھی یہی ہے۔آزادی تقریر کسی پیغام کو دنیا میں پھیلانے کے لئے بلکہ خود انسان کی عزت اور وقار کو بحال کرنے کے لئے اظہار اور ابلاغ کی آزادی بے حد ضروری ہے۔جب تک کوئی مذہب شرف انسانیت کو قائم نہیں کرتا اور اس کی حفاظت نہیں کرتا وہ اس قابل نہیں کہ اسے مذہب کا نام دیا جا سکے۔قبل ازیں جو کچھ بیان ہو چکا ہے اس سے یہ واضح ہو جانا چاہئے کہ اسلام جیسے مذہب کے لئے یہ ناممکن ہے کہ وہ اظہار رائے اور 41