اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 39
ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةِ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ (سورۃ المومنون آیت ۹۷) ترجمہ۔اُس (طریق) سے جو بہترین ہے بدی کو ہٹا دے۔ہم اسے سب سے زیادہ جانتے ہیں جو وہ باتیں بناتے ہیں۔اس آیت میں احسن کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس کے معنی ہیں بہترین، انتہائی دلکش، حسین و جمیل اور خوبصورت۔دوسروں تک اسلام کا پیغام پہنچاتے وقت مومنوں پر جس ضابطہ اخلاق کی پابندی ضروری ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے قرآن کریم فرماتا ہے: وَالْعَصْرِه إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْره إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِه ( سورة العصر آیات ۲ تا ۴) ترجمہ۔زمانے کی قسم ! یقیناً انسان ایک بڑے گھاٹے میں ہے۔سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے اور حق پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور صبر پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔اس سلسلہ میں قرآن مجید مزید فرماتا ہے: ° - ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ ( سورة البلد آیت ۱۸) ترجمہ۔پھر وہ اُن میں سے ہو جائے جو ایمان لے آئے اور صبر پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کرتے ہیں اور رحم پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کو رحم کی نصیحت کرتے ہیں۔کون سا مذ ہب باقی رہے گا؟ ( بقائے اصلح) قرآن مجید کی رو سے کسی مذہب کی بقاء اور انجام کار فتح کا تمام تر دارو مدار کسی 39