اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 20
تو محض اس دعویٰ سے ان کے جذبات مجروح نہیں ہونے چاہئیں۔خاص طور پر اس لئے بھی کہ خود ان کی طرف سے بھی ایسے ہی دعاوی پیش کئے جاتے ہیں۔جہاں تک اسلام کا تعلق ہے اس نے ایک قدم اور آگے بڑھ کر اس سلسلہ میں بھی مسلمانوں کو شائستگی، انکسار اور دوسروں کے جذبات کے احترام کی تلقین کی ہے۔اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کے متعلق اپنے عقائد کا غیروں کے سامنے ایسے غیر محتاط انداز میں ذکر نہ کیا کریں جس سے ان کی دل شکنی اور دل آزاری ہو۔یہ مضمون آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی درج ذیل دو احادیث کے ذریعہ روز روشن کی طرح کھل جاتا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی اور حضرت یونس علیہ السلام کے ایک پر جوش پیرو باہم بحث میں الجھ پڑے۔دونوں نے اس تکرار کے دوران اپنے اپنے نبی کو اعلیٰ اور افضل قرار دیا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس مسلمان نے کچھ اس شدومد کے ساتھ یہ دعویٰ پیش کیا جس سے دوسرے شخص کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔وہ شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس صحابی کے خلاف شکایت کی۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔وهو ° لا تُفَصِلُونِي عَلَى يونس بن متى (صحیح البخاری کتاب الانبیاء ) یعنی تم یونس بن متی کے بالمقابل میری فضیلت کا اظہار نہ کیا کرو۔بعض شارحین اس حدیث سے الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔انہیں یہ حدیث قرآن مجید کے دعویٰ کے خلاف نظر آتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت یونس ہی نہیں بلکہ تمام انبیاء سے افضل ہیں۔لی اللہ علیہ وسم دراصل ان کی توجہ اصل بات کی طرف نہیں گئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے 20 20