اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 19
کرنے والے ہیں۔و وہ ه وه بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَّجِيدٌ فِي لَوْحٍ مَّحْفُوظ (سورۃ البروج آیات ۲۲، ۲۳) ترجمہ۔بلکہ وہ تو ایک صاحب مجد قرآن ہے ایک لوح محفوظ میں۔ان آیات کی رو سے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف سب سے افضل قرار دیا گیا ہے بلکہ آخری اور دائمی شریعت لانے والا بھی قرار دیا گیا ہے۔نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آپ کی نبوت قیامت تک جاری وساری رہے گی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کے اس دعوی کے متعلق یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ ایسا دعوئی دیگر مذاہب کے ماننے والوں پر ناگوار تو نہیں گزرے گا۔اور کیا یہ مذاہب کی باہمی افہام و تفہیم کو نقصان پہنچانے والا دعویٰ تو نہیں ہے۔پھر یہ کہ اس دعوی کو آج کے خطاب کے موضوع سے کیسے ہم آہنگ کیا جائے گا ؟ کیوں کہ مجھے آج یہاں یہی بیان کرنا ہے کہ اسلام حیات انسانی کے تمام شعبوں اور دائروں میں امن کی ضمانت دیتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ مذہب کا دائرہ انسانی زندگی میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔پس کیا اس نوعیت کا دعویٰ امن اور بالخصوص مذہبی امن کا نقیض تو نہیں قرار پائے گا۔دراصل یہی وہ امکانی سوال تھا جس کے پیش نظر میں نے پہلے اس دعوی کو قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے۔جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے تو ایک غیر متعصب اور تحقیقی ذہن کو مطمئن کرنے کے لئے اس کا جواب ایک سے زائد طریق سے دیا جاسکتا ہے۔جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے ایسے دعاوی بہت سے دوسرے مذاہب کے پیروؤں کی طرف سے بھی کئے جاتے ہیں۔ایک محقق کے لئے صحیح طریق یہی ہے کہ وہ بلا وجہ جوش میں نہ آئے اور یہ دیکھے کہ کیا کوئی نبی واقعی دوسرے انبیاء کی نسبت یہ دعویٰ کرنے کا حقدار ہے۔جہاں تک دیگر مذاہب کے ماننے والوں کا تعلق ہے 19