اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 21 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 21

یہ نہیں فرمایا کہ میں یونس نبی سے درجہ میں کم ہوں یا یہ کہ میں یونس نبی سے افضل نہیں ہوں۔آپ نے تو اپنے متبعین سے یہ فرمایا کہ وہ آپ کے افضل ہونے کا اظہار اس رنگ میں نہ کریں جس سے دوسروں کے جذبات مجروح ہو سکتے ہوں۔جو واقعہ پیش آیا تھا اسے مدنظر رکھتے ہوئے اس ارشاد سے صرف ایک ہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو ملائمت اور شائستگی اختیار کرنے کا درس دے رہے ہیں۔آپ یہ ہدایت فرما رہے ہیں کہ شیخی بگھارنے اور فخر کرنے کے مرض میں کبھی مبتلا نہ ہوں۔آپ کا منشا یہ تھا کہ آپ کے مقام ومرتبہ کے بارے میں غیروں سے گفتگو میں احتیاط برتنی چاہئے مبادا ان کی دل شکنی ہو۔غیر مہذب اور ناشائستہ طریق سے بات کرنا تو اسلام کے اپنے مفاد کے خلاف ہے۔اس طرح تو اسلام کیلئے لوگوں کے دل و دماغ فتح کرنے کی بجائے نتیجہ اس کے برعکس نکلے گا۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرز عمل کی ایک اور حدیث سے بھی توثیق ہوتی ہے۔اس حدیث میں بیان شدہ واقعہ کے مطابق ایک مسلمان ایک یہودی کے ساتھ اسی نوعیت کی ایک بحث میں الجھ پڑا۔دونوں نے اپنے اپنے روحانی آقا کی فضیلت کے بارہ میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر دعوی کئے۔اس دفعہ بھی ایسا ہی ہوا کہ غیر مسلم نے یہی مناسب سمجھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس مسلمان کے طرز عمل کے خلاف شکایت کرے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر وہی حلم اور انکسار دکھایا جو آپ کی عادت مبارکہ کا حصہ تھا نیز آپ کو موقع کی نزاکت کا اچھی طرح احساس تھا۔چنانچہ آپ نے اس مسلمان کو سمجھایا اور شائستگی، ملائمت اور تہذیب کا درس دیتے ہوئے فرمایا۔وها لا تُفَصِلُونِي عَلى موسى (صحیح البخاری کتاب الانبیاء ) ترجمہ۔یعنی تم موسیٰ کے بالمقابل میری فضیلت کا اظہار نہ کیا کرو۔21 224