اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 267
ہیں اور جو بڑے گنا ہوں اور بے حیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں اور جب غضبناک ہوں تو بخشش سے کام لیتے ہیں اور جو اپنے رب کی آواز پر لبیک کہتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ان کا امر باہمی مشورہ سے طے ہوتا ہے اور اس میں سے جو ہم نے انہیں عطا کیا خرچ کرتے ہیں۔اور وہ جن پر جب زیادتی ہوتی ہے تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔أَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ کا تعلق مسلم معاشرہ کی سیاسی زندگی سے ہے۔اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ امور سلطنت سے متعلق ان کے فیصلے باہمی مشاورت سے طے پاتے ہیں۔جمہوریت کی مندرجہ بالا تعریف کا پہلا حصہ یعنی حکومت عوام کی ہے اسی آیت مبارکہ کی تصدیق کر رہا ہے۔چنانچہ ایک مسلم معاشرہ میں عوامی رائے باہمی مشورہ کے طفیل حکومتی فیصلہ بن جاتی ہے۔جمہوریت کی تعریف کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ حکومت لوگوں کے ذریعہ ہو۔یہ امر بڑی وضاحت سے مندرجہ ذیل آیت میں بیان کیا گیا ہے۔" إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا إِلَّا سُنتِ إِلَى أَهْلِهَا (سورۃ النساء آیت ۵۹) ترجمہ:۔یقینا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حقداروں کے سپرد کیا کرو۔اس کا معنی یہ ہے کہ جب بھی حکومت کا انتخاب کرو تو ہمیشہ امانت ان لوگوں کے سپرد کرو جو اس کے سب سے زیادہ اہل ہوں۔یہاں انتخاب کے اس عوامی حق کا مفہوماً ذکر کیا گیا ہے۔اصل میں قرآن کریم زور اس بات پر دیتا ہے کہ اس حق کا استعمال کس طرح کیا جانا چاہئے۔مسلمانوں کو یاد دلایا گیا ہے کہ یہ صرف ان کی ذاتی پسند یا نا پسند کا سوال نہیں ہے بلکہ اس سے بڑھ کر انتخاب کا حق ایک قومی امانت ہے اور جہاں امانت کا سوال ہو وہاں انسان اتنا آزاد نہیں ہوتا کہ جو چاہے کرتا پھرے بلکہ لازم ہے کہ وہ 267