اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 268 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 268

امانت کا حق پوری سچائی، ایمانداری اور ذاتی اغراض سے بالاتر ہو کر ادا کرے اور امانت ایسے لوگوں کے سپرد کی جائے جو درحقیقت اس کے اہل ہوں۔بہت سے مسلمان علماء کے نزدیک اس آیت میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ اسلام کا جمہوریت کے متعلق وہی نظریہ ہے جو مغرب کا سیاسی فلسفہ پیش کرتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بات محض جزوی طور پر ہی درست ہے۔قرآن کریم نے شوری کے جس نظام کا ذکر کیا ہے اس میں عصر حاضر کی مغربی جمہوریتوں اور ان کی جماعتی ریشہ دوانیوں کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رکھی گئی۔اسی طرح قرآن کریم اس طرز کے سیاسی بحث و مباحثہ کی اجازت بھی نہیں دیتا جو آج کل کی جمہوری طور پر منتخب اسمبلیوں اور ایوان ہائے نمائندگان کا خاصہ ہے۔اس موضوع پر چونکہ مفصل بحث پہلے گزر چکی ہے اس لئے یہاں اسے دوہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔جمہوریت کی تعریف کے دوسرے حصہ Government by the people کے ضمن میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ باہمی مشورہ کے اس نظریہ کے مطابق ووٹ دینے والے کو ووٹ کا حق مکمل اور غیر مشروط طور پر حاصل ہوتا ہے اور اس حق کو اس سے چھینا نہیں جاسکتا۔آجکل جو جمہوریت رائج ہے اس کے مطابق ایک ووٹر اگر چاہے تو اپنا ووٹ کسی بے جان پتلے کو دیدے اور چاہے تو اسے بیلٹ بکس میں ڈالنے کی بجائے رڈی کی ٹوکری میں پھینک دے۔ہر دو صورتوں میں اسے کوئی ملامت نہیں کی جا سکتی نہ ہی اسے جمہوریت کے کسی اصول کی خلاف ورزی پر کسی قسم کی تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔لیکن یادر ہے کہ قرآن کریم جس جمہوریت کو پیش کرتا ہے اس کے مطابق ایک رائے دہند اپنے اس حق کے استعمال میں مطلقاً آزاد نہیں ہے بلکہ ووٹ اس کے 268