اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 266 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 266

کسی قیمت پر بھی انحراف نہ کیا جائے خواہ معاملہ سیاسی ہو یا سماجی یا اقتصادی۔حکومت کی تشکیل کے بعد پارٹی کے اندر ہونے والی ووٹنگ کے دوران ہمیشہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے۔پارٹی کا کوئی مفاد یا کوئی سیاسی مصلحت ان فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔اپنے دور رس نتائج کے لحاظ سے اس روح کے ساتھ کئے گئے فیصلوں پر ہی جمہوریت کی وہ تعریف صادق آئے گی جو ابراہیم لنکن نے پیش کی تھی۔یعنی ایسی حکومت عوام کی حکومت ہوگی، عوام کے ذریعہ ہوگی اور عوام کے لئے ہوگی۔مشاورت قرآن کریم نے جمہوریت کی روح اور اس کے مرکزی نکتہ کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے اور مسلمانوں کو بتایا ہے کہ بلاشبہ جمہوریت باقی تمام نظاموں سے بہتر نظام حکومت ہے تاہم بادشاہت کو کہیں بھی لا دین اور مذموم طرز حکومت قرار دے کر کلیۂ رد نہیں کیا گیا ہے۔قرآن کریم ایک مثالی اسلامی معاشرہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔فَمَا اوتيتم مِن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا، وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَى لِلَّذِينَ ° ده 10w 28 0۔امَنُوا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبِيرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَ أَقَامُوا الصَّلوةَ ، وَأَمْرُهُمْ وه -- وه وہ ٥٠٠ و ہ وہ وہ 0-06 60 شورى بينهم ص و مما رزقنهم ينفقون 0 والذين إذا أصابهم البغى هم ( سورة الشوریٰ آیات ۳۷ تا ۴۰) يَنتَصِرُونَ ترجمہ :۔پس جو بھی تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا عارضی سامان ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ اچھا اور ان لوگوں کے لئے سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر توکل کرتے 266