اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 13 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 13

نومن ه وو لا ل و ه وه - - لک لک و نكفر ببعض ويريدون أن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَلِكَ سَيْلاه 8 05 أُولَئِكَ هُمُ الْكَفِرُونَ حَقًّا وَأَعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ عَذَابًا مُّهِيْنًا وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ روو هوه آ ووه وه وَكَانَ وَرُسُلِهِ وَلَمْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ أُولئِكَ سَوْفَ يُوتِيْهِمْ أَجُورَهُمْ۔(سورۃ النساء آیات ۱۵۱ تا ۱۵۳) = 0 غَفُورًا رَّحِيمًا الله ترجمہ۔یقیناً وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لائیں گے اور بعض کا انکار کر دیں گے اور چاہتے ہیں کہ اس کے بیچ کی کوئی راہ اختیار کریں۔یہی لوگ ہیں جو پکے کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لئے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔اور وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور ان کے اندر کسی کے درمیان تفریق نہ کی ، یہی وہ لوگ ہیں جنہیں وہ ضرور ان کے اجر عطا کرے گا۔اور اللہ بہت بخشنے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔کیا منصب میں برابری کے باوجود انبیاء کے مرتبہ اور مقام میں فرق ہو سکتا ہے؟ اگر تمام انبیاء اپنے منصب کے لحاظ سے برابر ہیں تو کیا یہ ضروری ہے کہ وہ مرتبہ کے لحاظ سے بھی برابر ہوں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ انبیاء اپنے ذاتی اوصاف اور فرائض کی ادائیگی کے طریق میں کئی اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔قرب الہی کے لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں انبیاء اور رسل کے مراتب میں فرق ہو سکتا ہے۔اس امر کی تصدیق بائبل، قرآن اور دیگر صحائف میں 13