اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 12
حاصل نہیں ہے کہ وہ انبیاء کے درمیان کسی قسم کا کوئی فرق روا ر کھے۔سب انبیاء اور ان کے لائے ہوئے پیغام کو مستند تسلیم کرنا لازم ہے۔مذاہب عالم، بانیان مذاہب اور دیگر جملہ انبیاء کے متعلق اسلام کی یہ تعلیم مختلف مذاہب کے درمیان مفاہمت اور اتحاد کی فضا قائم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔یہ اصول کہ ہر نبی پر نازل ہونے والی وحی چونکہ ایک ہی خدا کی طرف سے ہے اس لئے یکساں طور پر قابل احترام ہے مذاہب کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا بہت ہی موثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔اس سے دوسرے مذاہب کے انبیاء اور ان کی وحی کے متعلق مخالفانہ جذبات ، ادب اور احترام کے جذبات میں بدل جاتے ہیں اور قرآن کریم کا اس مسئلہ پر یہی واضح اور منطقی موقف ہے۔چنانچہ فرمایا: طو امَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهِ وَالْمُؤمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَئِكَتِهِ وَ قف كُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُّسُلِهِ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ (سورۃ البقرہ آیت ۲۸۶) ق ز ترجمہ۔رسول اس پر ایمان لے آیا جو اس کے رب کی طرف سے اس کی طرف اتارا گیا اور مومن بھی۔ان میں سے ) ہر ایک ایمان لے آیا اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر یہ کہتے ہوئے کہ ) ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کریں گے۔اور انہوں نے کہا کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔تیری بخشش کے طلب گار ہیں اے ہمارے رب! اور تیری طرف ہی لوٹ کر جاتا ہے۔پھر فرماتا ہے: روو إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ باللهِ وَرُسُلِهِ وَيُريدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرَسُلِهِ وَيَقُولُونَ 12