اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 14
مذکور تاریخ انبیاء کے مطالعہ سے بخوبی ہو جاتی ہے۔قرآن مجید اس امر کو تسلیم کرتا ہے کہ منصب میں مساوی ہونے کے باوجود انبیاء کے مراتب میں فرق ہو سکتا ہے۔لیکن یہ ایسا فرق نہیں جس کی وجہ سے مختلف مذاہب کے ماننے والے آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں۔قرآن کریم جہاں یہ اعلان کرتا ہے کہ سب انبیاء خدا کی طرف سے ایک جیسا مستند پیغام لے کر آئے ہیں وہاں یہ اعلان بھی کرتا ہے کہ۔و و و تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنهم من كلم الله و رفع بعضهم (البقره آیت ۲۵۴) درجت ترجمہ۔یہ وہ رسول ہیں جن میں سے بعض کو ہم نے بعض ( دوسروں ) پر فضیلت دی۔بعض ان میں سے وہ ہیں جن سے اللہ نے (روبرو) کلام کیا اور ان میں سے بعض کو ( بعض دوسروں سے ) درجات میں بلند کیا۔اس امر کو تسلیم کرنے کے بعد کہ منصب نبوت میں مساوی ہونے کے باوجود انبیاء کے مرتبہ اور مقام میں فرق ہو سکتا ہے ایک سوال ذہن میں یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر زیادہ بلند مرتبہ نبی کون ہے یا کس کو سمجھا جائے ؟ یہ ایک بہت نازک اور حساس مسئلہ ہے۔مگر اس کی اہمیت کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ظاہر ہے کہ تمام مذاہب کے پیرو اپنے اپنے مذہب کے بانی کو سب انبیاء سے افضل قرار دیتے ہیں۔سب یہ سمجھتے ہیں کہ مرتبہ شان تقدس اور عزت کے لحاظ سے کوئی اور ان کے نبی کے ہم پلہ نہیں ہو سکتا اور نبوت کے تمام لازمی اوصاف میں سب سے بلند اور ارفع و اعلیٰ مقام پر فائز ہمارا ہی نبی ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلمان بھی یہ دعوی کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سب نبیوں سے افضل ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بلاشبہ اسلام دوٹوک الفاظ میں یہ دعویٰ کرتا ہے اور یہ صلى الله 14